انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 236

انوار العلوم جلد 26 236 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ ہے کہ وہاں اس وقت تک 500 آدمی مسلمان ہو چکے ہیں اور ایک نو جوان یہاں پڑھنے کے لئے بھی آ رہا ہے۔اسی طرح جرمنی کے ملک کو دیکھ لو کسی وقت یہ حال تھا کہ بڑے بڑے فلاسفروں اور دشمن اسلام لوگوں نے اسلام کے خلاف جو کتابیں لکھیں ان میں جرمن لوگ بھی شامل تھے لیکن اس وقت وہاں اسلام پھیل رہا ہے۔ایک مسجد بن چکی ہے اور دوسری مسجد کے لئے زمین خریدی جاچکی ہے اور امید ہے کہ 1958 ء میں وہ بھی بن جائے گی اور 1959ء تک ان مساجد کی تعداد تین تک پہنچ جائے گی۔ان ممالک میں پہلے مسلمانوں سے دشمنی کا سلوک کیا جاتا تھا لیکن اب وہ اسلام کی طرف رغبت کر رہے ہیں اور اسلام میں داخل ہونے والے ترقی کر رہے ہیں۔یہ انقلاب نہایت قلیل عرصہ میں ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے کہ جرمن لوگ اسلام کی مخالفت کرتے تھے۔یہ مخالفت دوسری جنگ عظیم تک چلتی چلی گئی۔اسلام سے رغبت کا زمانہ 1945 ء کے بعد آیا ہے گویا صرف بارہ سال کا عرصہ ہوا ہے جب خدا تعالیٰ نے جرمنوں کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر دیا اور وہ اس سے رغبت کرنے لگے۔کوثر سے کیا مراد ہے پس اِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبَّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ میں کوثر سے مراد ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تجھے مسیح موعود جیسا ایک عظیم الشان روحانی فرزند عطا کریں گے جو کثرت سے خزانے لگائے گا۔احادیث میں بھی پیشگوئی کی گئی تھی کہ مسیح موعود خزانے لٹائے گا مگر لوگ اسے قبول نہیں کریں گے 9۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سینکڑوں کتابیں اسلام کی تائید میں لکھیں اور دینی حقائق اور معارف کے خزانے لوگوں کے سامنے رکھے مگر لوگوں نے ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اگر ان خزانوں سے ظاہری مال و دولت مراد ہوتی تو اس کے قبول نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ جس کسی کو بھی روپیہ دو وہ فورا لے لیتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ایک غیر احمدی آیا اور اس نے کہا کہ اگر