انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 190

انوار العلوم جلد 26 190 یوم مصلح موعود پر جماعت احمدیہ کراچی۔چاہتا ہوں کہ 1953 ء میں جو فسادات ہوئے تھے انہی فسادات کے پھر آثار پیدا ہور ہے ہیں۔مگر اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی کیونکہ فوج مارشل لاء کی وجہ سے بدنام ہو چکی ہے۔اس لئے آپ ابھی سے کوئی تدبیر سوچ لیں۔میں نے انہیں ہنس کر کہا کہ اُس وقت ہم نے کون سی تدبیر کر لی تھی ؟ اُس وقت بھی خدا نے ہی تدبیر کی تھی اور اب بھی وہی کرے گا۔اس پر وہ کہنے لگا فیتھ از بلائنڈ (Faith is blind) یعنی ایمان اندھا ہوتا ہے۔چونکہ آپ کے دل میں ایمان اور یقین ہے اس لئے آپ سمجھتے ہیں کہ اس دفعہ بھی اللہ تعالیٰ آپ کے بچاؤ کا کوئی نہ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔اس کے کچھ دنوں بعد یوپی کے ایک دوست نے مجھے لکھا کہ فلاں کرنیل صاحب جو آپ سے بھی ملنے کے لئے گئے تھے اُن سے میں ملا تو انہوں نے اس فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹی سی بات کو انہوں نے بہت بڑھا دیا ہے۔اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے وہ ایک بے حقیقت شخص ہے مگر آپ نے اس کی تردید کر کے اسے بلا ضرورت شہرت دے دی ہے۔اگر آپ اس کی تردید نہ کرتے اور اس چھوٹی سی بات کو نہ بڑھاتے تو اچھا ہوتا۔میں نے انہیں لکھا کہ میری طرف سے آپ کرنیل صاحب کو کہہ دیجئے کہ ابھی چند ہفتے ہوئے آپ میرے پاس آئے تھے اور کہتے تھے کہ کوئی تدبیر کر لیں۔کیونکہ پھر 1953 ء والے فسادات کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔اس پر میں نے تدبیر کرنی شروع کی تو آپ کہتے ہیں میں نے ایک چھوٹی بات کو بڑھا دیا ہے۔انہوں نے مجھے جواب میں لکھا کہ آپ کا خط آنے پر میں اس دوست کو ملا تھا اور آپ کے جواب کا ان سے ذکر کیا تھا وہ کہتے ہیں کہ اب مجھے اپنی غلطی محسوس ہوگئی ہے۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے ان سے یہ بات کہی تھی۔اس کے بعد جب اللہ رکھا کے متعلق انہوں نے اعلان کیا تو میں نے سمجھا کہ انہوں نے یہ اعلان کر کے غلطی کی ہے مگر جب میں نے دیکھا کہ لاہور کے تمام اخبارات اور پیغامی اس کی تائید میں کھڑے ہو گئے ہیں تو میں نے سمجھا کہ اس سے زیادہ عقلمندی اور کوئی نہیں تھی کہ انہوں نے وقت پر اس شرارت کو بھانپ لیا اور اس فتنہ کو بے نقاب کر دیا۔اب میری طرف سے انہیں خط لکھ دیں کہ میں اپنی غلطی کو مان گیا ہوں در حقیقت آپ نے وہی بات کی تھی جو میں آپ کو کہہ آیا ا