انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 175

انوار العلوم جلد 26 175 سیر روحانی (10) لے کر قیامت تک ممتد ہے ۔ پس گجا وہ دُنیوی بادشاہوں کے باغ جو میں نے 1938ء میں دیکھے تھے اور کجا یہ محمد رسول اللہ کا باغ جس کا ذکر میں آج 1956ء میں کر رہا ہوں ۔ ان دونوں کا مقابلہ کر کے بے اختیار منہ سے نکلتا ہے ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - بڑی برکت والا ہے ہمارا خدا جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان بھیجا جس نے قیامت تک کے لئے دنیا کی ہدایت کا بیڑا اٹھا لیا۔ پھر بڑی برکت والا ہے وہ خدا جس نے مسیح موعود جیسا غلام محمد رسول اللہ کو دیا جس نے محمد رسول اللہ کا باغ جب اُجڑ کے کھیتی بننے لگا تھا پھر اس کو باغ کی شکل میں تبدیل کر دیا۔ اور اُس کے پودوں کو دنیا کے کناروں تک پھیلا دیا تا کہ وہ ہر ملک میں جائیں ، ہر قوم میں جائیں ، ہر جگہ پر جاکے وہاں کے عیسی کے باغ کے پودوں کو نکال نکال کر محمد رسول اللہ کے باغ میں لگائیں اور موسی کے باغ کے پودوں کو اُکھیڑ اکھیڑ کر محمد رسول اللہ کے باغ میں لگا ئیں ، یہاں تک کہ دنیا کے چیتے چیتے میں محمد رسول اللہ کا باغ لگ جائے اور نہ عیسی کا باغ رہے نہ موسی کا باغ رہے، وہ ساری اُجاڑ بستیاں بن جائیں ۔ آبا دستی اور ہرا باغ صرف محمد رسول اللہ کا ہو جو قیامت تک چلتا چلا جائے ۔“ **** ( ناشر الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس ربوہ ) سیر روحانی کے موضوع پر تقریر کرنے کے بعد حضور نے فرمایا: " اب میں دعا کروں گا آپ بھی رستہ میں دعائیں کرتے جائیں کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی دیتا چلا جائے اور محمد رسول اللہ کا باغ اور اس کے بعد جو اس کو دوسری زندگی مسیح موعود نے بخشی ہے وہ باغ قیامت تک آباد ہوتا چلا جائے اور مسیحیوں کی طرح وہ دن نہ لائے کہ ہم موسی کا باغ مسیح کے حوالے کر دیں بلکہ ہم مسیح کے باغ کو بھی محمد رسول اللہ کے حوالے کریں ۔ اور کبھی کوئی شیطان اور خناس ایسا پیدا نہ ہو جو ہمارے دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ مسیح موعود جو محمد رسول اللہ کا غلام تھا وہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ محمد رسول اللہ کا ہمسر تھا بلکہ ہمیشہ ہم اس کو غلام ہی سمجھتے رہیں اور ہمیشہ اس کے کام کو