انوارالعلوم (جلد 26) — Page 176
انوار العلوم جلد 26 176 سیر روحانی (10) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام اور اس کی جماعت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سمجھتے رہیں اور محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں اس کو ایک ادنی غلام اور ایک چھوٹا شاگرد ہی سمجھتے رہیں جس کے ذریعہ سے خدا نے محمد رسول اللہ کی عظمت قائم کی ہے۔ہم یقین رکھیں کہ مسیح موعود کو جو کچھ ملا ہے محمد رسول اللہ کے طفیل ملا ہے۔اور ہم کو جو مسیح موعود سے ملا ہے وہ بھی محمد رسول اللہ کا ہی انعام ہے۔جو ہمارا ہے وہ مسیح موعود کا ہے جو مسیح موعود کا ہے وہ محمد رسول اللہ کا ہے اور ہر چیز سمٹ کر آخر محمد رسول اللہ کے ہاتھوں میں جاتی ہے اور ہر بوٹا اُکھیڑا جا کر آخر محمد رسول اللہ کے باغ میں لگتا ہے۔سو یہ دعائیں رستہ میں کرتے چلے جاؤ۔دعا کے بعد میں رخصت کروں گا۔رستہ میں بھی دعائیں کرتے چلے جانا کہ اللہ تعالیٰ اپنی برکتوں سے ہماری حفاظت کرے اور اپنے دینِ اسلام کی حفاظت کرے اور اس کی ترقی کے پھر سامان پیدا کرے۔اور اللہ تعالیٰ پھر اپنی برکت اور رحمت سے قادیان ہم کو واپس دلائے تا کہ وہ جو اصل مرکز ہے ہم پھر وہاں جائیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ربوہ میں زمین نہ خرید و۔دیکھو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ بسایا تھا پھر مدینہ بھی آبادرہا اور مکہ بھی۔تو یہ کبھی نہ وہم کرنا کہ ربوہ اُجڑ جائے گا۔ربوہ کو خدا نے برکت دی ہے ، ربوہ کے چپہ چپہ پر اللہ اکبر کے نعرے لگے ہیں، ربوہ کے چپہ چپہ پر محمد رسول اللہ پر درود بھیجا گیا ہے۔خدا اس زمین کو کبھی ضائع نہیں کرے گا جس پر نعرہ تکبیر لگے ہیں اور محمد رسول اللہ پر درود بھیجا گیا ہے۔یہ بستی قیامت تک خدا تعالیٰ کی محبوب بیستی رہے گی اور قیامت تک اس پر برکتیں نازل ہوں گی۔اس لئے یہ کبھی نہیں اُجڑے گی کبھی تباہ نہیں ہوگی بلکہ محمد رسول اللہ کا نام ہمیشہ یہاں سے اونچا ہوتا رہے گا اور قادیان کی اتباع میں یہ بھی محمد رسول اللہ کا جھنڈا دنیا میں کھڑا کرتی رہے گی إِنْشَاءَ اللهُ تَعَالَی اس کے بعد حضور کے ارشاد پر مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے وہ تاریں پڑھ کر سنائیں جو دنیا کے مختلف ممالک اور پاکستان کے اطراف و جوانب سے آئی تھیں اور جود عا اور مبارک باد کے پیغامات پر مشتمل تھیں۔تاریں سنائے جانے کے بعد حضور نے ارشاد فرمایا۔