انوارالعلوم (جلد 26) — Page 166
انوار العلوم جلد 26 66 166 سیر روحانی (10) دے گہنے۔ہم تو ہیں ہی محمد رسول اللہ کے غلام اور آپ کے باغ کے بُوٹے۔ہم تو ہر وقت آپ ہی کی ملکیت ہیں۔کبھی آپ کے حلقہء اطاعت سے باہر گئے ہی نہیں۔موسوی سلسلہ کے لوگ یعنی یہودی وغیرہ بے شک نکلے اور باہر گئے مگر اُن کو بھی ہم محمد رسول اللہ کے دروازہ پر لائیں گے اور ہم تو ہیں ہی آپ کے دروازہ پر بیٹھے ہوئے۔اس دروازہ کو ہم نے کبھی نہیں چھوڑا نہ چھوڑیں گے اِنشَاءَ اللَّهُ تَعَالَی۔بلکہ مسیح ناصری کی امت جو عیسائی ہے اور حضرت موسی کی براہِ راست اُمت جو یہودی ہے ان دونوں کے باغوں میں سے بھی روحانی پودے نکال نکال کر ہم محمد رسول اللہ کے باغ میں لگاتے رہیں گے یہاں تک کہ محمد رسول اللہ کا باغ آباد ہو جائے گا اور موٹی کا باغ بھی محمد رسول اللہ کے باغ میں شامل ہو جائے گا۔محمد رسول اللہ کا باغ دنیا کے محاورہ زبان میں بھی جسمانی یا روحانی اولا درخت کہلاتی ہے۔چنانچہ پنجابی والے تو خوب جانتے چپہ چپہ پر پھیل جائے گا ہیں کہ جب کسی عورت کا بچہ مر جاتا ہے اور وہ نئین ڈالتی ہے تو کہتی ہے ”ہائے میرا باغ اُجڑ گیا ، ہائے میرابو ٹا کسے نے پٹ لیا۔‘ تو ہمارے ملک میں بچے اور اولاد کو بھی بُوٹا اور باغ ہی کہتے ہیں۔مگر لطیفہ یہ ہے کہ لوگ باغ لگاتے رہے اور باغ محمد رسول اللہ کو مل گئے۔موسی علیہ السلام نے کوشش کر کے یہودی بنائے اور اُن کو فلسطین میں قائم کیا۔خدا نے محمد رسول اللہ کو بنا بنا یا فلسطین دے دیا۔موسق کی قوم ہجرت کر کے کشمیر آئی اور کشمیر بنا بنایا خدا نے محمد رسول اللہ کو دے دیا اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لگایا ہو اباغ بھی محمد رسول اللہ کو ہی مل گیا۔دنیا کے کناروں تک احمدی مبلغ تبلیغ کرتے ہیں اور لا اله الا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھوا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔یعنی جو درخت بھی اُن کو ملتا ہے وہ لا کر محمد رسول اللہ کے چمن میں لگا دیتے ہیں۔موسی کے باغ میں تو صرف ایک بڑا درخت پیدا ہوا تھا جس کا نام داؤد تھا۔مگر محمد رسول اللہ کے چمن کا ایک درخت یعنی مسیح موعود دعوی کرتا ہے کہ میں ہی محمد رسول اللہ کے چمن کا داؤد نامی درخت نہیں بلکہ مجھ سے اور بیج بھی نکلنے والے ہیں جن سے بہت سے