انوارالعلوم (جلد 26) — Page 164
نوار العلوم جلد 26 164 سیر روحانی (10) سے مراد خدا تعالیٰ ہے ) اُس نے دوبارہ ایک اور نوکر کو اُن کے پاس بھیجا۔انہوں نے اُس پر پتھر پھینکے، اُس کا سر پھوڑا اور بے حُرمت کر کے پھیر بھیجا۔پھر اُس نے ایک اور کو بھیجا۔انہوں نے اُسے قتل کیا۔پھر اور بہتیروں کو۔اُن میں سے بعض کو پیٹا اور بعض کو مار ڈالا۔اب اُس کا ایک ہی بیٹا تھا ( یعنی خود مسیح) جو اُس کا پیارا تھا آخر کو اُس نے اُسے بھی اُن کے پاس یہ کہہ کے بھیجا کہ وے میرے بیٹے سے دہیں گے۔لیکن ان باغبانوں نے آپس میں کہا یہ وارث ہے آؤ ہم اسے مار ڈالیں تو میراث ہماری ہو جائے گی۔اور انہوں نے اسے پکڑ کے قتل کیا ( اس میں مسیح کے صلیب پر لٹکائے جانے کی پیشگوئی تھی ) اور انگور کے باغ کے پرے پھینک دیا ( یعنی فلسطین سے نکالا اور نصیبین بھیج دیا جہاں سے وہ کشمیر چلا گیا ) پس باغ کا مالک کیا کہے گا ؟ وہ آوے گا اور اُن باغبانوں کو ہلاک کر کے انگوروں کا باغ اوروں کو دے گا (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے اور اُن باغبانوں کو یعنی یہودیوں کو وہاں سے نکال دیں گے اور اپنی اُمت کو دے دیں گے ) 22 اس جگہ خود مسیح نے محمد رسول اللہ کے روحانی بادشاہ ہونے کا اعلان کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا مظہر اور موسی کو محض ایک کا رندہ ثابت کیا ہے۔اس پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ فلسطین اور اُمتِ موسویہ کا باغ محمد رسول اللہ کے حوالے کر دے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوباغ مل جائیں گے۔دو مادی اور دو روحانی۔مادی فلسطین اور کشمیر اور روحانی مسیح موسوی کی اُمت اور مسیح محمدی کے متبع۔کشمیر اور فلسطین میں اب دونوں مادی باغوں کو دیکھ لو۔کشمیر میں بھی خدا کے فضل سے جو لوگ اس عزم کے جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں کہ ہم نے سارا ملک ہی مسلمان بنانا ہے وہ احمدی ہیں اور فلسطین میں بھی ایک ہی جماعت بیٹھی ہے اور وہ احمدی