انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 163

نوار العلوم جلد 26 163 سیر روحانی (10) فلسطین اور کشمیر کے متعلق خدائی وعدہ پس محمد رسول اله صلی اللہ علیہ سلم کو دو باغ مل گئے۔ایک باغ مسیح موعود کے ظہور سے پہلے زمانہ میں اور ایک باغ مسیح موعود کے ظہور کے بعد کے زمانہ میں۔چنانچہ پہلے زمانہ میں دنیوی لحاظ سے وہی باغ آپ کو ملا جو موسٹی کی اُمت کو دُنیوی لحاظ سے ملا تھا۔یعنی فلسطین اور کشمیر کا علاقہ۔فلسطین میں بھی بڑے باغات ہیں۔میں نے 1924ء میں جب سفر کیا تو فلسطین بھی گیا تھا۔میں ریل میں دمشق سے بیروت آیا۔جب بیروت کے قریب پہنچے تو میں نے دیکھا کہ ریل شہر کے اندر داخل ہو رہی ہے اور ہر گھر میں باغیچے لگے ہوئے ہیں۔اور دمشق میں میں نے دیکھا کہ گھر گھر میں نہریں جاری تھیں اور ہر گھر میں باغ لگا ہو ا تھا۔اسی طرح کشمیر کا حال ہے کہ وہاں چپے چپے پر باغ ہے۔کچھ خودرو اور کچھ مغل بادشاہوں کے لگائے ہوئے۔پس قرآن کہتا ہے کہ دُنیوی لحاظ سے محمد رسول اللہ کو وہی باغ ملے گا جو موسٹی کی اُمت کو ملا۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کا اپنے نیک بندوں کو وارث بنائے گا یعنی مسلمانوں کو۔پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو فلسطین سے نکال کر کشمیر میں لایا اور اُس نے کشمیر کے لوگوں کو مسلمان بنایا۔چنانچہ شیخ ہمدان ایران سے آئے اور اُن کے ذریعہ سے سارا کشمیر مسلمان ہو گیا۔محمد رسول اللہ کو موسوی باغ یہ خبر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موسوی باغ مل جائے گا اس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیح نے بھی کیا ملنے کی انجیل میں پیشگوئی ہے۔انجیل میں آتا ہے :۔وو و پھر وہ انہی تمثیلوں میں کہنے لگا کہ ایک شخص نے انگور کا باغ لگایا۔اور اُس کی چاروں طرف کھیرا اور کوٹھو کی جگہ کھودی اور ایک بُرج بنایا اور اسے باغبانوں کو سپر د کر کے پردیس گیا۔پھر موسم میں اُس نے ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تا کہ وہ باغبانوں سے انگور کے باغ کے پھل میں سے کچھ لے۔انہوں نے اُسے پکڑ کے مارا اور خالی ہاتھ بھیجا ( چونکہ یہ مثال ایک روحانی سلسلہ کی ہے اس لئے باغ کے مالک