انوارالعلوم (جلد 26) — Page 150
انوار العلوم جلد 26 150 سیر روحانی (10) رسالوں کی قیمت دینے کے لئے تیار ہیں۔کچھ دو روپیہ کے لحاظ سے خریداروں سے وصول ہو جائے گا اور کچھ باہر کے لوگوں کی طرف سے جو ان کا پیکنگ کا خرچ ہے وہ وصول ہو جائے گا۔امیر جماعت کراچی کہتے ہیں کہ پانچ سو کاپی جماعت کراچی اپنے ذمہ لیتی ہے یعنی ایک ہزار روپیہ، گویا گیارہ سو کاپی میں نے لی تھی ، پانچ سو انہوں نے لی سولہ سو ہو گئی۔دو ہزار انجمن لے گئی چھتیں سو ہو گئی۔ایک سو پر چہ کلکتہ کے ایک دوست نے لیا سینتیس سو ہوگئی۔محمد بشیر صاحب سہگل جو ڈھاکہ کے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پچاس کا پیاں میں بھی لوں گا۔اس طرح ساڑھے سینتیس سو ہو گئی اب پانچ ہزار ہونے میں صرف ساڑھے بارہ سو کی کمی رہ گئی ہے جس کا پورا کرنا ساری جماعت کے لئے کوئی مشکل امر نہیں کیونکہ اکیلے میں نے گیارہ سو پر چہ لیا ہے۔ایک بات میں یہ کہنی چاہتا تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے خلاف جب حملے ہوئے تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا تھا کہ مغرور مت ہو میرے پاس خالد ہیں جو تمہارا سر توڑیں گے۔مگر اُس وقت سوائے میرے کوئی خالد نہیں تھا صرف میں ہی ایک شخص تھا۔چنانچہ پرانی تاریخ نکال کر دیکھ لو صرف میں ہی ایک شخص تھا جس نے آپ کی طرف سے دفاع کیا اور پیغامیوں کا مقابلہ کیا اور ان سے چالیس سال گالیاں سنیں۔لیکن باوجود اس کے کہ ایک شخص ان کی طرف سے دفاع کرنے والا تھا پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان میں برکت دی اور ہزاروں ہزار آدمی مبائعین میں آکر شامل ہو گئے۔جیسا کہ آج کا جلسہ ظاہر کر رہا ہے۔مگر یہ نہ سمجھو کہ اب وہ خالد نہیں ہیں اب ہماری جماعت میں اس سے زیادہ خالد موجود ہیں ! چنانچہ شمس صاحب ہیں، مولوی ابوالعطاء ہیں، عبد الرحمن صاحب خادم ہیں۔یہ لوگ ایسے ہیں کہ جو دشمن کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور دیں گے اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالَی۔اور اللہ تعالیٰ ان کی قلم میں اور ان کے کلام میں زیادہ سے زیادہ برکت دے گا یہاں تک کہ یہ اُس بت خانہ کو جو پیغامیوں نے تیار کیا ہے چکنا چور کر کے رکھ دیں گے۔اب میں اپنے مضمون سیر روحانی کے ایک حصہ کو بیان کرتا ہوں۔”سیر روحانی