انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 151

انوار العلوم جلد 26 151 سیر روحانی (10) کے بہت سے ٹکڑے میں بیان کر چکا ہوں۔اب صرف تین باقی ہیں۔ایک قرآنی باغات ، ایک قرآنی لنگر اور ایک قرآنی کتب خانے۔یہ تین مضمون خدا چاہے ہو جائیں تو پھر وہ سارا لیکچر مکمل ہو جائے گا۔آج میں باغات کا مضمون لیتا ہوں۔“ قرآنی باغات (الفضل 12 ، 15 مارچ 1957ء) پیشتر اس کے کہ میں اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کروں اور اُن باغات کے مقابلہ میں جو میں نے اپنے سفر حیدر آباد میں دیکھے تھے اُن روحانی باغات کا ذکر کروں جو قرآن کریم نے پیش کئے ہیں میں تمہیدی طور پر بعض امور کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا میرے اس مضمون کے ساتھ تعلق ہے۔اسلام کی توحید خالص پر بنیاد یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ اسلام کی بنیاد توحید خالص پر ہے اور سورۃ الاخلاص اس توحید کا معیار ہے۔قرآن کریم اس بات پر زور دیتا ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے سب چیزیں جوڑا جوڑا ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدا تعالیٰ خالق ہے اور باقی چیزیں مخلوق ہیں کیونکہ احد وہی ہوسکتا ہے جو جوڑا نہ ہو۔جو جوڑا ہو اُس کا مخلوق ہونا ضروری ہے۔چنانچہ سورۃ الذاریات رکوع 3 آیت 50 میں آتا ہے۔وَمِنْ كُلِّ شَيْ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ یعنی جتنی چیزیں ہم نے پیدا کی ہیں ان سب کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے تا کہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔یعنی دنیوی چیزوں کو جوڑا جوڑا پیدا کرنے سے یہ غرض ہے کہ تم سوچو کہ جب ہر چیز جوڑا ہے تو معلوم ہوا کہ ہر چیز مخلوق ہے اور اس کا کوئی خالق ہے۔اور جب خدا جوڑا نہیں تو معلوم ہوا کہ اللہ احد ہے، اللہ صمد ہے۔وہ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ 1 ہے۔جو شخص کسی کا بیٹا ہوتا ہے وہ جوڑا ہوتا ہے اور اس کا ایک باپ اور ایک ماں ہوتی ہے۔اور جس کے ہاں کوئی بیٹا ہو اُس کی ایک بیوی بھی ہوتی ہے۔غرض جو بیٹا بنے یا کسی کا بیٹا ہو وہ احد نہیں ہو سکتا۔عیسائیت جو حضرت مسیح کے ابن اللہ ہونے پر ناز کرتی ہے درحقیقت وہ