انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page xix

انوار العلوم جلد 26 8 تعارف کتب نذرانہ دے دیا۔ میں نے سمجھا کہ اتنا بڑا نذرانہ مجھے اپنی ذات پر استعمال کرنے کی بجائے سلسلہ کے لئے استعمال کرنا چاہئے ۔ چنانچہ میں نے وہ سارے کا سارا نذرانہ اسلام کی اشاعت کے لئے دے دیا۔ مگر اس کے باوجود میری نیت یہی ہے کہ میں اپنے چندہ کو بڑھا دوں۔“ (6) مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب ماه اکتوبر پاکستان میں ذیلی تنظیموں کے سالانہ اجتماعات کا مہینہ تھا۔ امسال بھی او اکتوبر پاکستان تینوں تنظیموں تنظیموں کے سالانہ اجتماعات ماہ اکتوبر میں ہی ہوئے اور ہر تین مواقع پر حضرت خلیفة المسیح الثانی نے خطابات فرمائے ۔ سب سے پہلا اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ کا 11 تا 13 ۔ اکتوبر 1957 ء ربوہ میں منعقد ہوا۔ جس میں 13 راکتو بر کو آخری روز آپ نے اختتامی خطاب فرمایا ۔ حضور نے اپنے خطاب میں خدام کو خدمت دین ، تبلیغ اسلام، مساجد کی تعمیر اور اس کی آباد کاری اور صحابہ کرام کے اپنے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار، محبت اور عقیدت کے واقعات بیان فرما کر خدام کو صحابہ کا نمونہ اپنا کر مالی اور جانی قربانیوں میں پیش پیش رہنے کی تلقین فرمائی ۔ حضور نے یورپ میں ہر سال 50 مساجد کی تعمیر کا عزم ظاہر فرمایا۔ اس کے لئے خدام کو اپنے عزیز و اقارب کو تبلیغ کر کے احمدی بنانے کی تلقین فرمائی تا ان کی مالی قربانی سے جلد از جلد اپنے ٹارگٹ کو حاصل کر لیں ۔ حضور نے مساجدی اور آبادکاری کی ہوئے فرمایا:- حضور نے مساجد کی تعمیر اور اس کی آباد کاری کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: یا د رکھ دلہن ہمیشہ دولہا کے گھر ہی بسا کرتی ہے ہمسایہ کے گھر میں نہیں بسا کرتی۔ یا یوں کہو کہ دولہا کے گھر دلہن ہی بسا کرتی ہے ہمسائی نہیں بسا کرتی ۔ مساجد کا کام ہماری دلہن ہے اور اس نے ہمارے ہی گھر آنا ہے کسی اور کے گھر نہیں جانا۔ یہ ہماری بے غیرتی ہوگی کہ یہ کام کسی اور کے گھر چلا جائے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں