انوارالعلوم (جلد 26) — Page 122
انوار العلوم جلد 26 122 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت مولوی عبدالمنان نے کیا۔لیکن وہ حصہ بھی خود نہیں کیا بلکہ جب وہ جامعہ احمدیہ میں پروفیسر تھے تو دوسرے استادوں اور لڑکوں کی مدد سے کیا تھا۔بلکہ شاہد کلاس کے ایک طالب علم محمود احمد مختار نے مجھے لکھا ہے کہ اس کا دیباچہ انہوں نے اردو میں لکھا تھا۔پھر مولوی محمد احمد صاحب ثاقب کے ذریعہ سے مجھے دیا کہ میں اس کا عربی میں ترجمہ کروں۔پھر یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ علامہ احمدمحمد شاکر مصری جو اخوان المسلمین کے بانی بنا رخاندان میں سے ہیں انہوں نے اس کتاب کا انڈیکس تیار کیا ہوا ہے اور اس کی چودہ جلدیں چھپ چکی ہیں جو میری لائبریری میں موجود ہیں۔اسی طرح احمد عبد الرحمن کی تبویب " الفتح الربانی " کی پانچ مجلدات بھی چھپی ہوئی ہیں۔ہمارے پاس منڈی بہاؤالدین سے مولوی محمد ارشاد صاحب بشیر کی شہادت آئی ہے کہ وہاں پیغامی یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ مولوی منان صاحب نے ساری حدیثیں جمع کی ہیں یعنی وہ جو تبویب تھی اس کا نام ساری حدیثیں جمع کرنا رکھا ہے اس لئے میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس کام کی کیا حقیقت ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حدیثوں کی کتابیں کئی قسم کی ہیں۔ایک مسند کہلاتی ہیں جن میں راوی کے نام کے لحاظ سے حدیثیں جمع کی جاتی ہیں خواہ وہ کسی مضمون کی ہوں۔مثلاً حضرت ابو بکر کی حدیثیں ایک جگہ، حضرت عمرؓ کی ایک جگہ، وَهَلُمَّ جَرًّا۔مسند احمد حنبل بھی اسی بناء پر مسند کہلاتی ہے۔اور بخاری وغیرہ چونکہ مضمونوں کی بناء پر لکھتے ہیں اس لئے ان کو جامع کہتے ہیں۔جیسے جامع بخاری۔جامع مسلم۔جامع ابی داؤد اور جامع ابن ماجہ سنن ابن ماجہ بھی اس کا نام مشہور ہے۔اسی طرح جامع ترندی۔اگر وہ بہت اعلیٰ کتابیں ہوں تو انہیں صحیح کہہ دیتے ہیں۔جیسے صحیح بخاری۔ایک تیسری قسم کی حدیثوں کی کتابیں وہ ہیں جن میں براہ راست حدیثیں درج نہیں کی گئیں بلکہ حدیث کی پہلی کتب میں سے ضروری حدیثیں اکٹھی کر لی گئی ہیں۔ان میں ابن تیمیہ کی منتھی ہے۔سیوطی کی جامع الصغیر ہے۔ہمارے ملک میں عام طور پر مشکوۃ اور بلوغ المرام مشہور ہیں۔مسند احمد بن حنبل پہلی قسم کی کتابوں میں سے ہے جس میں انہوں نے حدیثیں نقل کی ہیں۔مگر انہوں نے یہ حدیثیں راویوں کے نیچے دی ہیں مضمون وار نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی خواہش تھی کہ مضمون وار بھی ان کو جمع کیا جائے تاکہ مضمون نکالنا آسان ہو۔پس یہ تو جھوٹ ہے