انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 110

انوار العلوم جلد 26 110 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ہے۔منصور احمد اور عزیزہ نسیم کو پسند ہے۔شادی کے اخراجات کے سلسلہ میں میرا ذاتی نکتہ نگاہ یہ ہے کہ معمولی سے اخراجات کافی ہوتے ہیں۔اسلام میں تکلفات نہیں اور یہاں بھی عام حالات میں زیادہ اخراجات کی ضرورت نہ تھی۔لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ لڑکی نے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر ہزاروں میل دور جانا ہے پھر وہاں کے حالات بھی لڑکی والوں کے سامنے نہیں ہیں۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ابھی باقی عزیزوں کے رشتے بھی کرنے ہیں اور ضرورت ہے کہ پہلی شادی کے بعد راستے کھل جائیں اور کئی لوگوں کی نظریں اس پہلی شادی پر ہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں کیا خرچ ہوتا ہے اس سے وہ مالی اور دوسرے حالات کا اندازہ کریں گے اور میرے سامنے یہ حقیقت بھی ہے کہ سونا اور کپڑا افریقہ میں یہاں پاکستان کے مقابلہ میں سنتا ہے۔ان تمام حالات کو دیکھ کر میری رائے یہ ہے کہ شادی کے تمام اخراجات کے لئے پانصد پونڈ (یعنی آجکل کے لحاظ سے سات ہزار روپیہ ) کافی ہوں گے۔علاوہ حق مہر کے۔یہ روپیہ بذریعہ ڈرافٹ بھجوانے کی ضرورت نہیں آپ یہ روپیہ وہاں کی جماعت میں میرے نام پر جمع کرا دیں اور رسید مجھے بھجوا دیں میں یہ روپیہ یہاں منصور احمد کی والدہ کو ادا کر دوں گا تا وہ اپنی نگرانی میں زیور کپڑا وغیرہ پر صرف کریں۔پس آپ ڈرافٹ بینک نہ بھیجوائیں بلکہ وہاں میرے نام پر رقم جمع کروادیں۔میں یہاں اس کے مطابق رقم ادا کرادوں گا۔مہر انداز لڑکے کی ایک سال کی آمد کے برابر ہونی چاہئے جو میرے خیال میں آٹھ ہزار روپیہ ہوگی۔خاکسار عبدالمنان عمر ( دستخط ) غرض انہوں نے ادھر سلسلہ کا کچھ مال اِدھر اُدھر استعمال کیا اور کچھ لوگوں سے منگواتے