انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 102

انوار العلوم جلد 26 102 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تصنیف کتاب البریہ میں اس کے خاندان کی گالیاں لکھی ہیں۔اور لکھا ہے کہ انہوں نے میری نسبت لکھا ہے کہ : ان امور کا مدعی رسولِ خدا کا مخالف ہے۔۔۔۔۔ان لوگوں میں سے ہے جن کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں دنبال کذاب پیدا ہوں گے ان سے اپنے آپ کو بچاؤ ہم کو گمراہ نہ کر دیں اور بہکا نہ دیں۔اس (قادیانی) کے چوزے ( یعنی آپ لوگ بشمولیت حضرت مولوی نورالدین صاحب جومنان کے باپ اور مولوی اسماعیل غزنوی کے نانا اور اس گالیاں دینے والے کے بھائی کے خسر تھے ) ہنود اور نصاری کے مخنث ہیں۔55 گویا جب مولوی عبدالواحد غزنوی کا پوتا بارڈر پر آپ لوگوں کو یہ کہنے گیا تھا کہ منان تقویٰ میں سب سے زیادہ ہے تو اس کے معنے یہ تھے کہ ہندو اور نصاریٰ کا مخنث سب سے زیادہ ہے کیونکہ جب احمدی ہنود اور نصاریٰ کے مخنث ہیں تو اگر منان احمدی ہے اور وہ احمدیوں میں سب سے بڑا ہے تو پھر وہ ہندوؤں اور عیسائیوں کا سب سے بڑا مخنث ہے۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کہتے ہیں کہ مولوی عبدالواحد کا ایک الگ فتویٰ بھی ہے جو اُس نے عدالت میں لکھوایا تھا کہ مرزا قادیانی کافر ہے اور اس کے مرید سب کا فر ہیں۔اور جو کوئی ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔اب مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی اور مولوی داؤد صاحب غزنوی اور خالد صاحب (ابن مولوی محمد اسماعیل صاحب ) جنہوں نے بارڈر پر جا کر بنگالی وفد کے سامنے کہا تھا کہ مولوی منان سب سے بڑے متقی ہیں بتا ئیں کہ آیا وہ کافر ہیں یا نہیں؟ اور آیا ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے یا نہیں؟ جیسا کہ ان کے دادا نے کہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے یہاں تک لکھا ہے کہ مولوی اسماعیل غزنوی کی ماں یعنی حضرت خلیفہ اول کی بڑی بیٹی کی وفات بھی میرے مباہلہ کے نتیجہ میں ہوئی۔مولوی عبدالحق غزنوی نے جو مولوی عبدالواحد غزنوی کا چھوٹا بھائی تھا پیشگوئی کی تھی کہ میرے