انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 95

انوار العلوم جلد 26 95 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت 46 گردھتی رہی مگر سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس کا ذکر حضور سے کیونکر کروں۔اب حضور کا ارشاد پڑھ کر میں نے یہ بیان مولوی عبداللطیف صاحب بہاول پوری کو لکھوا دیا۔میں خدا کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ کہتی ہوں کہ یہ بیان صحیح ہے۔الفاظ میں کمی بیشی ہو تو الگ امر ہے مگر مفہوم یہی تھا۔44 اسی طرح چودھری بشارت احمد صاحب لاہور کی گواہی ہے۔جس میں وہ کہتے ہیں کہ غلام رسول نمبر 35 نے بھی یہی کہا کہ ہم تو میاں عبدالمنان صاحب عمر کی بیعت کریں گے۔45 اور مولوی محمد صدیق صاحب شاہد مربی راولپنڈی کی بھی یہی گواہی ہے کہ اللہ رکھا نے کہا کہ اب تو لاہوریوں کی نظر حضرت خلیفہ اول کی اولاد پر زیادہ پڑتی ہے اور وہ میاں عبدالمنان صاحب کی زیادہ تعریف کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک وہ زیادہ قابل ہیں۔چنانچہ ”پیغام صلح کی تائید سے بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ بات سچ ہے۔اسی طرح عنایت اللہ صاحب انسپکٹر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ لکھتے ہیں:۔ڈاکٹر محمد شفیع صاحب نثار پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ طالب آباد نے بتایا کہ آج سے دو سال قبل گوٹھ رحمت علی تھل برانچ پر مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی ( یہ حضرت خلیفہ اول کے نواسے اور عبدالوہاب اور عبدالمنان کے بھانجے ہیں) کے ایک پروردہ شخص بشیر احمد نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی خلافت کا حق مولوی نور الدین صاحب کے بعد اُن کی اولاد کا تھا۔لیکن میاں محمود احمد صاحب نے ( نَعُوذُ بِاللهِ ) ظلم سے ان کا حق غصب کر کے خلافت پر قبضہ کر لیا ہے۔اب ہم لوگ ( یعنی خاندان حضرت خلیفہ اول اور ان کے غیر احمدی رشتہ دار ) اس کوشش میں ہیں کہ خلافت کی گری مولوی صاحب کی اولاد کو ملے۔اور اب "حق بحقدار رسید" کے مطابق جلد ہی یہ معاملہ طے ہو کر رہے گا۔“ یعنی حق حضرت خلیفہ اول کا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد نے خواہ مخواہ بیچ میں 47،، دخل دے دیا۔چنانچہ ہمارے پاس بعض ٹریکٹ ایسے پہنچے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ