انوارالعلوم (جلد 26) — Page 87
انوار العلوم جلد 26 87 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت گیا ہے اور جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مکتبہ اردو اور ماہنامہ "ادب لطیف لاہور کے مالک چودھری برکت علی مرحوم نے اُن سے کہا کہ تمہاری جماعت کے سرکردہ لوگ ہم سے پوشیدہ ملتے رہتے ہیں اور اہلِ قادیان کے اندرونی حالات ہم کو بتاتے رہتے ہیں۔جب میں نے اصرار کیا کہ بتائیں وہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ تمہاری جماعت میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں مگر وہ قادیان میں بہت تنگ ہیں ، ان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور اپنی تنگدستی اور پریشانیوں کی ہم سے شکایت کرتے ہیں اور ہم سے مالی امداد بھی طلب کرتے رہتے ہیں۔" اور آخر میں مولوی عبدالوہاب کا نام لیا۔42 ان گواہیوں سے ظاہر ہے کہ مولوی عبدالوہاب صاحب اپنی تنگدستی اور پریشانیوں کی غیروں سے شکایت کرتے رہے اور یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ اُن کی کوئی مالی امداد نہیں کی جاتی۔حالانکہ یہ بالکل جھوٹ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 1908ء میں فوت ہوئے تھے اور حضرت خلیفہ اول 1914ء میں فوت ہوئے۔گویا حضرت خلیفہ اول کی وفات پر بیالیس سال اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر اڑتالیس سال گزر چکے ہیں جو حضرت خلیفہ اول کی وفات کے عرصہ سے یقیناً زیادہ ہے۔اس عرصہ میں سلسلہ کی طرف سے جو دونوں خاندانوں کو امداد دی گئی ہے اُس کا میں نے حساب نکلوایا ہے جو چھپیں سال گزشتہ کا مل چکا ہے کیونکہ کچھ ریکارڈ قادیان رہ گیا ہے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کو 25 سال کے عرصہ میں نوے ہزار ایک سو بیس روپیہ دیا گیا۔اور حضرت خلیفہ اول کے خاندان کو جو بہر حال حضرت مسیح موعود کے خادم تھے اس عرصہ میں نوے ہزار دوسونوے روپیہ ملا ہے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے جن کے افراد زیادہ تھے حضرت خلیفہ اول کے خاندان کو ایک سو ستر روپیہ زیادہ ملا۔اور ابھی وہ رقمیں الگ ہیں جو میں دیتا رہا۔مگر باوجود اس کے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے خاندان کو گرایا جارہا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جارہی۔جب اس کے ساتھ یہ بات بھی ملائی جائے کہ اس چھپیں سال میں میں نے چندے کے