انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 81

انوار العلوم جلد 26 81 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت 1930ء میں میر محمد اسحاق صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ میاں منان کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کو گرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہماری جائیداد کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ابھی وہ ہزاروں آدمی زندہ ہے جو قادیان میں جانے والا ہے انہوں نے حضرت خلیفہ اول کا کچا مکان دیکھا ہوا ہے اس کے مقابلہ میں حضرت صاحب نے ہم کو ورثہ میں پانچ گاؤں اور قادیان کا شہر دیا تھا۔گویا حضرت خلیفہ اول کی جائیداد ہماری جائیداد کا بیس ہزارواں حصہ بھی نہ تھی۔اب کیا وہ بیس ہزارواں حصہ جائیداد بھی ہم نے کھانی تھی؟ 1930ء میں چودھری ابوالہاشم صاحب نے مجھے اپنی مرحومہ بیٹی کا جو مولوی عبدالسلام صاحب کی بیوی تھیں ایک خط بھجوایا جو بنگالی میں تھا۔اور اس میں لکھا تھا کہ خاندانِ حضرت خلیفہ اول میں ہر وقت خلافت ثانیہ سے بغاوت کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔مگر افسوس ہے کہ وہ خط میرے پاس محفوظ نہیں رہا۔شاید قادیان میں ہی رہ گیا ہے۔ستمبر 1930ء میں پیغامیوں کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا کہ ناصر احمد کو ولی عہد مقرر 40 کرنے کا پرو پیگنڈا کیا جارہا ہے۔1956ء کی مجلس مشاورت کے وقت بھی یہی بات میاں عبدالمنان نے کہی۔چنانچہ چودھری انور حسین صاحب ایڈووکیٹ وامیر جماعت احمد یہ شیخو پورہ تحریر کرتے ہیں کہ :۔و گزشتہ مشاورت کے موقع پر مجھے میاں عبدالرحیم احمد کے مکان پر رہنے کا اتفاق ہوا۔شیخ بشیر احمد صاحب، ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب بھی وہیں مقیم تھے۔میاں عبدالمنان اکثر اس مکان پر رہتے تھے اور ناشتہ اور کھانے کے وقت بھی وہیں ہوتے تھے۔میں مشاورت کی مالی سب کمیٹی کا ممبر تھا اور میاں عبدالمنان بھی اس سب کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوتے تھے۔اس اجلاس میں میں اور مولوی عبد المنان اکٹھے ہی گئے۔رستہ میں میاں عبدالمنان نے کہا کہ لاکھوں کا بجٹ مالی سب کمیٹی کے سامنے رکھا ہی نہیں جاتا۔اس کا حساب کتاب جماعت کے سامنے لایا ہی نہیں جاتا۔میری دریافت پر میاں عبد المنان نے کہا کہ یہ جماعتی کا روبار