انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 82

انوار العلوم جلد 26 82 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت یا تجارت کے متعلق ہے۔میں اس پر چوکس ہوا۔مالی سب کمیٹی کا اجلاس آدھی رات کے قریب ختم ہوا اور واپس ہوئے۔غالباً دوسرے دن دو پہر کے وقت میاں عبدالمنان نے پھر ایسی ہی گفتگو شروع کی اور کہا کہ باہر سے آنے والے لوگوں کو کیا معلوم کہ یہاں کیا ہورہا ہے، یہاں سخت پارٹی بازی ہے۔پھر مکرم میاں ناصر احمد صاحب کے متعلق ولی عہد کے لفظ کہے اور پھر کہا کہ وہ کو کین استعمال کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ قطعاً غلط ہے اور وہ بضد رہا۔میری طبیعت پر اس گفتگو کا یہ اثر تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ یہاں قیام کرنے میں میں نے غلطی کی ہے اور میرا یہ احساس تھا کہ اگر کوئی دوست مجھے یہاں ملنے کے لئے بھی آئے اور تھوڑا وقت بھی ٹھہرے تو وہ بھی بُرا اثر قبول کریں گے۔خاکسار محمد انور حسین "14/09/1956 پھر محمد یوسف صاحب بی۔ایس سی سابق افسر کویت کی گواہی ہے کہ 1931ء میں مولوی عبدالوہاب عمر خلیفہ ثانی پر گندے الزامات لگاتے رہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔میں نے 1929ء میں بیعت کی تھی۔اس کے ایک دو سال بعد یا اسی دوران میں میرے والد صاحب مجھے مولوی ظفر اقبال صاحب ( سابق پرنسپل اور مینٹل کالج لاہور ) کے پاس لے گئے (جن کے والد احمدی تھے اور جو ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب جو لاہور کے مشہور سرجن ہیں اُن کے بڑے بھائی ہیں) اور انہیں کہا کہ میرا بیٹا احمدی ہو گیا ہے اسے سمجھایا کریں۔میں بہر حال والد صاحب کے کہنے پر مولوی ظفر اقبال صاحب سے ملتا رہا۔انہوں نے سلسلہ کے متعلق کبھی کوئی بات نہیں کی البتہ ایک دفعہ مجھے کہنے لگے کہ بڑے مرزا صاحب تو یقیناً بڑے اچھے آدمی تھے لیکن آپ کے