انوارالعلوم (جلد 26) — Page 74
انوار العلوم جلد 26 74 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ بیٹھیں ، حضرت اماں جان) بیٹھیں ۔ میری اماں کو یہاں سے اُٹھا دیں میری جان نہیں نکلے گی ۔ میری جان تکلیف سے نکلے گی ۔ میری ماں کو یہاں سے ہٹا دیں ۔ غرض وہ ہر وقت والدہ صاحبہ اور میرے پاس بیٹھے رہنے پر مصر تھا) اور بار بار کہتا تھا کہ آپ میرے پاس بیٹھے رہیں۔ مجھے اس سے تسلی ہوتی ہے۔ اور اس کے برخلاف اگر اپنی والدہ پاس آتیں تو اُن کو ہٹا دیتا تھا اور اصرار کرتا تھا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ۔ معلوم ہوتا ہے کہ وفات سے پہلے اُس کے دل کے دروازے اللہ تعالیٰ نے کھول دیئے تھے اور ایک پاک دل کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ سے جاملا ۔ مجھے اُس سے ایسی محبت تھی جیسے ایک سگے بھائی سے ہونی چاہیے۔ اور اس کا باعث نہ صرف حضرت مولوی صاحب کا اس سے محبت رکھنا تھا بلکہ یہ بھی وجہ تھی کہ اُسے خود بھی مجھ سے محبت تھی ۔ بوجہ نا تجربہ کاری کے بعض متنفنی لوگوں کے فریب میں آ جانا بالکل اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کے باقی بچوں کو نیک اور پاک عمر عطا فرمائے اور جس طرح آپ کا وجود نافع الناس تھا آپ کی اولاد بھی دعائم الملۃ 37 ہو۔ اللَّهُمَّ آمِينَ ۔ (لیکن میری اس دعا کو انہوں نے ضائع کر دیا ہے اور خود اپنے لئے تباہی کا بیج بویا ہے ) خاکسار مرزا محمود احمد غرض عبد الحی مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچالیا مگر حضرت خلیفہ اول کے باقی لڑکوں کے دلوں میں یہ خیال کھٹکتا چلا گیا کہ خلافت ہمارا حق تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیٹے نے اس کو چھین لیا ہے اور یہ حق پھر ہم کو واپس لینا چاہیے۔ چنانچہ شيخ يعقوب علی صاحب عرفانی جو قریباً اتنے ہی پرانے احمدی ہیں جتنے پرانے حضرت خلیفہ اول تھے۔ غالباً اُن کے دو تین سال بعد آئے۔ اور پھر انہوں نے سلسلہ کی خدمت میں بڑا روپیہ خرچ کیا ہے۔ ان کی شہادت ہے کہ :