انوارالعلوم (جلد 26) — Page 73
انوار العلوم جلد 26 73 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت پہلے خط کے بعد پھر قریباً تین ہفتہ سے خط نہ لکھ سکا جس کا باعث ترجمہ قرآن کا کام ہے۔مولوی شیر علی صاحب کو کہا ہوا ہے کہ ہر ہفتہ خط جانا چاہیے نہ معلوم جاتا ہے پائیں۔پچھلے ہفتہ ایک سخت حادثہ ہو گیا اور وہ بھی خط لکھنے میں روک رہا۔عزیز میاں عہدائی کو دو ہفتہ بخار رہا اور گو سخت تھا لیکن حالت مایوسی کی نہ تھی مگر پچھلی جمعرات کو یکلخت حالت بگڑ گئی اور ایک رات اور کچھ حصہ دن کا بیہوش رہ کر عصر کے قریب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (اُس وقت ایک ڈاکٹر ہیرالال صاحب کو میں نے لاہور سے بلایا تھا۔اس کا خیال تھا کہ ان کو ٹائیفائیڈ تھا مگر بیماری کی وقت پر تشخیص نہیں کی گئی اور اب مرض آخری مرحلہ پر پہنچ چکا ہے۔) قریباً اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور اب کے فتھ ہائی کا امتحان دینا تھا۔سال ڈیرھ سال سے شبانہ روز جسم و علم میں ترقی تھی اور اب خاصا جوان آدمی معلوم ہوتے تھے۔ذہن نہایت تیز اور ر سا تھا مگر منشاء الہی کے مقابلہ میں انسان کا کچھ بس نہیں چل سکتا اور اُس کے ہر ایک فعل میں حکمت ہوتی ہے۔اور جیسا کہ مجھے ان کی وفات کے بعد معلوم ہوا یہ واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہی حکمتوں کے ماتحت تھاور نہ کئی فتنوں کا اندیشہ تھا۔مرحوم بوجہ کم سن ہونے کے بہت سے فتنہ پردازوں کے دھوکے میں آ جاتا تھا۔میں آخری دنوں میں اپنے گھر میں ہی انہیں لے آیا تھا ( اُن کی بہن امتہ الحی مرحومہ کی خواہش سے ) اور حیران تھا کہ وہ ہر وقت والدہ صاحبہ اور میرے پاس بیٹھے رہنے پر مصر تھا ( یہ نظارہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔وہ امتہ الحی مرحومہ کے دالان میں ہی رہتے تھے۔میں آخر کام کرنے والا آدمی تھا۔ہر وقت قرآن کریم کی تفسیر کا کام اور دوسرا کام ہوتا تھا۔جب میں نیچے جاتا تو آدمی آتا کہ عبدالحی بلاتا ہے اور کہتا آپ