انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 72

انوار العلوم جلد 26 72 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت نہیں۔میں اب بھی تمہیں حکم دوں تو تم ہرگز نہ مانو۔اس پر اُن میں سے ایک نے کہا کہ آپ ہمیں حکم دیں پھر دیکھیں کہ ہم آپ کی فرمانبرداری کرتے ہیں یا نہیں؟ مولوی عبدالحی صاحب نے کہا اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جاؤ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کرلو۔یہ بات سن کر وہ لوگ بغلیں جھانکنے لگے اور کہنے لگے یہ تو نہیں ہوسکتا۔36 اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے عبدالحی مرحوم کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی سے پیدا ہوا تھا اس فتنہ سے بچالیا لیکن اُن کی والدہ اور ان کے چھوٹے بھائیوں کے دل میں یہ خار کھٹکتا رہا۔چنانچہ جب میں نے امتہ الحی مرحومہ سے اس لئے شادی کی کہ حضرت خلیفہ اول کی روح خوش ہو جائے کیونکہ ایک دفعہ انہوں نے بڑے صدمہ سے ذکر کیا تھا کہ میری بڑی خواہش تھی کہ میرا جسمانی رشتہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہو جائے مگر وہ پوری نہیں ہوئی۔جس پر میں نے آپ کی وفات کے بعد اور خلیفہ بنے کے بعد امتہ الحی مرحومہ سے شادی کی۔تو پیغامیوں نے والدہ عبدالوہاب اور والدہ عبدالمنان کو یہ کہنا شروع کیا کہ یہ رشتہ مرزا محمود احمد نے اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کے لئے کیا تھا۔حالانکہ اگر میں پہلے کرتا تب تو یہ اعتراض ہوتا کہ خلافت لینے کے لئے کیا ہے۔لیکن اول تو یہ سوال ہے کہ خلافت حضرت مولوی نورالدین صاحب کی تو نہیں تھی خلافت حضرت مسیح موعود کی تھی۔اگر باپ سے بیٹے کو حق پہنچتا ہے تو میں مسیح موعود کا بیٹا تھا۔پھر تو مولوی صاحب بھی خلیفہ نہیں رہتے۔پھر تو خلیفہ مجھے ہونا چاہیے تھا۔دوسرے خلیفہ میں پہلے ہو چکا تھا رشتہ بعد میں ہوا۔بہر حال عبدالحی مرحوم تو اس فتنہ میں نہ آیا جیسا کہ اُس کی وفات کے موقع کے حالات سے ظاہر ہے جو میں نے ایک خط میں چودھری فتح محمد صاحب کو لکھے تھے جو اُس وقت انگلینڈ میں مبلغ تھے اور جو خط انہوں نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو محفوظ رکھنے کے لئے دے دیا تھا اور اُن کے مرنے کے بعد اُن کے بیٹے لطف الرحمن نے مجھے اُن کے کاغذات میں سے نکال کر بھیج دیا وہ خط یہ ہے: برادرم مکرم چودھری صاحب! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ