انوارالعلوم (جلد 26) — Page 54
انوار العلوم جلد 26 54 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ الأولى - صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى 21 یعنی جو شخص پاک ہوتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے اور نمازیں پڑھتا ہے وہ بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن اے قرآن کریم کے مخاطب ! تم لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہو یعنی دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہو حالانکہ دین دنیا پر مقدم ہے اور قائم رہنے والا ہے۔ یہی بات پہلی کتابوں میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ ابراہیم کی کتاب میں بھی لکھی ہے اور موسیٰ کی کتاب میں بھی یہی بات لکھی ہے۔ ان آیات سے جو میں نے پڑھی ہیں ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وحی نازل ہوئی تھی ان دونوں میں یہ کہا گیا تھا کہ اے لوگو! آخرت یعنی دین کو دنیا پر مقدم کرو۔ دنیا کو دین یعنی آخرت پر مقدم نہ کرو۔ ورنہ تمہارا الہی نظام سے ٹکراؤ ہو جائے گا اور تم حق کو نہیں پاسکو گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو بھی یہی پُرانی تعلیم سکھائی گئی اور آپ نے اپنی بیعت میں یہ الفاظ رکھے کہ : میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“ در حقیقت یہی تعلیم ہے جس کے نہ ماننے کی وجہ سے نظام آسمانی کی مخالفت کی جاتی ہے یعنی رقابت یا لالچ یا بغض کی وجہ سے ۔ آدم کے زمانہ میں چنانچہ آدم کو دیکھ لو شیطان نے اس و دیکھ لو شیطان نے اُس کے لائے ہوئے نظام کی مخالفت کی۔ اس مخالفت کی وجہ کیا تھی؟ قرآن کریم اسے یوں کی وجہ شیطان کی مخالفت بیان فرماتا ہے قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُوْنُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّغِرِينَ قَالَ أَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا قُعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ثُمَّ لَا تِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَا بِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شُكِرِينَ قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُ وَمَا مَّدْحُورًا