انوارالعلوم (جلد 26) — Page 38
انوار العلوم جلد 26 38 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت سوائے فلاں شخص کے کسی کی بیعت نہیں کریں گے۔پس کان کھول کر سن لو کہ جس نے یہ کہا تھا کہ ابو بکر کی بیعت اچانک ہو گئی تھی اُس نے ٹھیک کہا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس جلد بازی کے فعل کے نتیجہ سے بچالیا۔اور یہ بھی یاد رکھو کہ تم میں سے کوئی شخص ابوبکر کی مانند نہیں جس کی طرف لوگ دُور دُور سے دین اور روحانیت سیکھنے کیلئے آتے تھے 12۔پس اس وہم میں نہ پڑو کہ ایک دو آدمیوں کی بیعت سے بیعت ہو جاتی ہے اور آدمی خلیفہ بن جاتا ہے۔کیونکہ اگر جمہور مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی شخص نے کسی کی بیعت کی تو نہ بیعت کرنے والے کی بیعت ہوگی اور نہ وہ شخص جس کی بیعت کی گئی ہے وہ خلیفہ ہو جائے گا بلکہ دونوں اس بات کا خطرہ محسوس کریں گے کہ سب مسلمان مل کر ان کا مقابلہ کریں اور ان کا کیا کرایا اکارت ہو جائے گا۔حالانکہ ابوبکر کی بیعت صرف اس خطرہ سے کی گئی تھی کہ مہاجرین اور انصار میں فتنہ پیدا نہ ہو جائے۔مگر اس کو خدا تعالیٰ نے قائم کر دیا۔پس وہ خدا کا فعل تھا۔نہ کہ اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ کوئی ایک دو شخص مل کر کسی کو خلیفہ بنا سکتے ہیں۔پھر علامہ رشید رضا نے احادیث اور اقوال فقہاء سے اپنی کتاب ”الخلافہ“ میں لکھا ہے کہ خلیفہ وہی ہوتا ہے جس کو مسلمان مشورہ سے اور کثرتِ رائے سے مقرر کریں۔مگر آگے چل کر وہ علامہ سعد الدین تفتازانی مصنف شرح المقاصد اور علامہ نووی وغیرہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کا جمع ہونا وقت پر مشکل ہوتا ہے۔پس اگر جماعت کے چند بڑے آدمی جن کا جماعت میں رسوخ ہو کسی آدمی کی خلافت کا فیصلہ کریں اور لوگ اُس کے پیچھے چل پڑیں تو ایسے لوگوں کا اجتماع سمجھا جائے گا اور سب مسلمانوں کا اجتماع سمجھا جائے گا اور یہ ضروری نہیں ہو گا کہ دنیا کے سب مسلمان اکٹھے ہوں اور پھر فیصلہ کریں 13۔اسی بناء پر میں نے خلافت کے متعلق مذکورہ بالا قاعدہ بنایا ہے جس پر پچھلے علماء بھی متفق ہیں۔محدثین بھی اور خلفاء بھی متفق ہیں۔پس وہ فیصلہ میرا نہیں بلکہ خلفائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور صحابہ کرام کا ہے اور تمام علمائے امت کا ہے جن میں حنفی ، شافعی ، وہابی سب شامل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بڑے آدمی سے مراد یہ ہے کہ جو بڑے بڑے کاموں پر مقرر ہوں جیسے ہمارے ناظر ہیں اور وکیل ہیں۔اور قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی مومنوں کی جماعت کو مخاطب کیا گیا ہے وہاں مراد ایسے ہی لوگوں