انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 32

انوار العلوم جلد 26 32 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت حقدار نے بھی اپنی موت کی خبر دی اور فرمایا پریشان نہ ہو کیونکہ خدا تعالیٰ دوسری قدرت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔سو دوسری قدرت کا اگر تیسرا مظہر وہ ظاہر کرنا چاہے تو اُس کو کون روک سکتا ہے۔ہر انسان نے آخر مرنا ہے۔مگر میں نے بتایا ہے کہ شیطان نے بتا دیا ہے کہ ابھی اس کا سر نہیں کچلا گیا۔وہ ابھی تمہارے اندر داخل ہونے کی اُمید رکھتا ہے۔"پیغام صلح" کی تائید اور محد حسین چیمہ کا مضمون بتاتا ہے کہ ابھی مارے ہوئے سانپ کی دُم ہل رہی ہے۔پس اُس کو مایوس کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آئندہ یہ نہ رکھا جائے کہ ملتان اور کراچی اور حیدر آباد اور کوئٹہ اور پشاور سب جگہ کے نمائندے جو پانچ سو کی تعداد سے زیادہ ہوتے ہیں وہ آئیں تو انتخاب ہو۔بلکہ صرف ناظروں اور وکیلوں اور مقررہ اشخاص کے مشورہ کے ساتھ اگر وہ حاضر ہوں خلیفہ کا انتخاب ہوگا۔جس کے بعد جماعت میں اعلان کر دیا جائے گا اور جماعت اس شخص کی بیعت کرے گی۔اس طرح وہ حکم بھی پورا ہو جائے گا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور وہ حکم بھی پورا ہو جائے گا کہ وہ ایسا مومنوں کے ہاتھ سے کرتا ہے۔در حقیقت خلافت کوئی ڈنڈے کے ساتھ تو ہوتی نہیں۔مرضی سے ہوتی ہے۔اگر تم لوگ ایک شخص کو دیکھو کہ وہ خلاف قانون خلیفہ بن گیا ہے اور جماعت اس کے ساتھ نہ ہو تو آپ ہی اُس کو نہ آمدن ہوگی نہ کام کر سکے گا ختم ہو جائے گا۔اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ چیز اپنے اختیار میں رکھی ہے لیکن بندوں کے توسط سے رکھی ہے۔اگر صحیح انتخاب نہیں ہوگا تو تم لوگ کہو گے کہ ہم تو نہیں مانتے۔جو انتخاب کا طریق مقرر ہوا تھا اُس پر عمل نہیں ہوا۔تو پھر وہ آپ ہی ہٹ جائے گا۔اور اگر خدا نے اُسے خلیفہ بنایا تو تم فوراً اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو جاؤ گے جس طرح 1914 ء میں رائے بدلنے پر مجبور ہو گئے تھے۔اور جوق در جوق دوڑتے ہوئے اُس کے پاس آؤ گے اور اُس کی بیعتیں کرو گے۔مجھے صرف اتنا خیال ہے کہ شیطان کے لئے دروازہ نہ کھلا رہے۔اس وقت شیطان نے حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں کو چنا ہے جس طرح آدم کے وقت میں اُس نے درخت حیات کو چنا تھا۔اُس وقت بھی شیطان نے کہا تھا کہ آدم! میں تمہاری بھلائی کرنا چاہتا ہوں۔میں تم کو اس درخت سے کھانے کو کہتا ہوں کہ جس کے بعد تم کو وہ بادشاہت ملے گی جو کبھی خراب نہیں ہوگی۔اور ایسی زندگی ملے گی جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔سو اب بھی لوگوں کو شیطان نے اسی طرح دھوکا دیا ہے کہ