انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 31

انوار العلوم جلد 26 31 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ملا کر اِس وقت جلسہ مردانہ اور زنانہ میں پچپن ہزار تعداد ہے۔آج رات کو تینتالیس ہزار مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا ہے۔بارہ ہزار ر بوہ والے ملالئے جائیں تو پچپن ہزار ہو جاتا ہے۔پس عورتوں اور مردوں کو ملا کر اس وقت ہماری تعداد پچپن ہزار ہے۔اُس وقت بارہ سو تھی۔یہ پچپن ہزار کہاں سے آئے؟ خدا ہی لایا۔پس میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا تو متان، وہاب اور پیغامی کیا چیز ہیں اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔جماعت احمدیہ کو حضرت خلیفہ اول کی اولاد سے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔جماعت احمدیہ کو خدا کی خلافت سے تعلق ہے۔اور وہ خدا کی خلافت کے آگے اور پیچھے لڑے گی اور دنیا میں کسی شریر کو جو کہ خلافت کے خلاف ہے خلافت کے قریب بھی نہیں آنے دے گی۔اب یہ دیکھ لو۔ابھی تم نے گواہیاں سن لی ہیں کہ عبدالوہاب احراریوں کو مل کر قادیان کی خبریں سنایا کرتا تھا اور پھر تم نے یہ بھی سن لیا ہے کہ کس طرح پیغامیوں کے ساتھ ان لوگوں کے تعلقات ہیں۔سواگر خدانخواستہ ان لوگوں کی تدبیر کامیاب ہو جائے تو اس کے معنے یہ تھے کہ بیالیس سال کی لڑائی کے بعد تم لوگ احراریوں اور پیغامیوں کے نیچے آجاتے۔تم بظاہر اس کو چھوٹی بات سمجھتے ہو لیکن یہ چھوٹی بات نہیں۔یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔اگر خدانخواستہ ان کی سکیم کامیاب ہو جاتی تو جماعت احمدیہ مبائعین ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی۔اور اس کے لیڈر ہوتے مولوی صدرالدین اور عبدالرحمن مصری۔اور ان کے لیڈر ہوتے مولوی داؤ دغزنوی اور عطاء اللہ شاہ بخاری۔اب تم بتاؤ کہ مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری اور داؤد غزنوی اگر تمہارے لیڈر ہو جائیں تو تمہارا دنیا میں کوئی ٹھکانہ رہ جائے؟ تمہارا ٹھکانہ تو تبھی رہتا ہے جب مبائعین میں سے خلیفہ ہو اور قرآن مجید نے شرط لگائی ہے منظم کی۔یعنی وہ مبائعین میں سے ہونا چاہیے۔اس پر کسی غیر مبائع یا احراری کا اثر نہیں ہونا چاہیے۔اگر غیر مبالع کا اور احراری کا اثر ہوتو پھر وہ نہ مِنكُمُ ہوسکتا ہے نہ خلیفہ ہوسکتا ہے۔پس ایک تو میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جب بھی وہ وقت آئے آخر انسان کے لئے کوئی دن آنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابھی میں نے حوالہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام