انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 30

انوار العلوم جلد 26 30 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت لسٹ میں شامل کئے جائیں۔اسی طرح ایسے تمام مبلغ جو ایک سال تک غیر ملک میں کام کر آئے ہیں اور بعد میں سلسلہ کی طرف سے اُن پر کوئی الزام نہ آیا ہو۔ایسے مبلغوں کی لسٹ شائع کرنا مجلس تحریک کا کام ہوگا۔اسی طرح ایسے مبلغ جنہوں نے پاکستان کے کسی ضلع یا صوبہ میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم سے کم ایک سال کام کیا ہو۔ان کی فہرست بنانا صدرانجمن احمدیہ کے ذمہ ہوگا۔مگر شرط یہ ہوگی کہ اگر وہ موقع پر پہنچ جائیں۔سیکرٹری شوری تمام ملک میں اطلاع دے دے کہ فوراً پہنچ جاؤ۔اس کے بعد جو نہ پہنچے اس کا اپنا قصور ہوگا اور اس کی غیر حاضری خلافت کے انتخاب پر اثر انداز نہیں ہوگی۔نہ یہ عذرسنا جائے گا کہ وقت پر اطلاع شائع نہیں ہوئی۔یہ ان کا اپنا کام ہے کہ وہ پہنچیں۔سیکرٹری شوری کا کام اُن کو لا نا نہیں ہے۔اس کا کام صرف یہ ہوگا کہ وہ ایک اعلان کر دے۔اور اگر سیکرٹری شوری کہے کہ میں نے اعلان کر دیا تھا تو وہ انتخاب جائز سمجھا جائے گا۔ان لوگوں کا یہ کہہ دینا یا ان میں سے کسی کا یہ کہہ دینا کہ مجھے اطلاع نہیں پہنچ سکی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوگی نہ قانونا نہ شرعاً۔یہ سب لوگ مل کر جو فیصلہ کریں گے وہ تمام جماعت کے لئے قابلِ قبول ہوگا۔اور جماعت میں سے جو شخص اس کی مخالفت کرے گا وہ باغی ہو گا۔اور جب بھی انتخاب خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چنا جائے میں اُس کو ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ چنا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے ساتھ ہوگا۔اور جو بھی اُس کے مقابل میں کھڑا ہوگا وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو ذلیل کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا۔کیونکہ ایسا خلیفہ صرف اس لئے کھڑا ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورا کرے کہ خلافت اسلامیہ ہمیشہ قائم رہے۔پس چونکہ وہ قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتوں کو پورا کرنے کے لئے کھڑا ہو گا اس لئے اُسے ڈرنا نہیں چاہیے۔جب مجھے خلیفہ چنا گیا تھا تو سلسلہ کے بڑے بڑے لیڈر سارے مخالف ہو گئے تھے اور خزانہ میں کل اٹھارہ آنے تھے۔اب تم بتاؤ اٹھارہ آنے میں ہم تم کو ایک ناشتہ بھی دے سکتے ہیں؟ پھر خدا تعالیٰ تم کو کھینچ کر لے آیا۔اور یا تو یہ حالت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر صرف بارہ سو آدمی جمع ہوئے تھے اور یا آج کی رپورٹ یہ ہے کہ ربوہ کے آدمیوں کو