انوارالعلوم (جلد 26) — Page 594
انوار العلوم جلد 26 594 پیغامات مجلس انصار اللہ کراچی کے پہلے سالانہ اجتماع (8،7 مارچ 1959ء) کے موقع پر ریکارڈڈ پیغام تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اے احباب کراچی ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ چونکہ میں اس دورہ میں بیماری سے دو چار رہا ہوں اس لئے یہاں کراچی آکر مجھے یہ موقع نہیں ملا کہ میں آپ لوگوں سے ملوں یا آپ لوگوں کو اپنے سے ملنے کا موقع دوں۔دوستوں نے خواہش کی ہے کہ میں ٹیپ ریکارڈر پر کچھ الفاظ کہہ دوں اور وہ آپ کو سنا دیئے جائیں۔سب سے پہلے میں آپ سے معذرت کرتا ہوں کہ کراچی میں آنے کے باوجود آپ کو وہ موقع نہیں ملا جو میزبان کو اپنے مہمان سے ملنے ملانے کا ملتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو میں پہلے ہی بیمار تھا پھر بشیر آباد سے واپسی پر مجھے کار کا ایک حادثہ پیش آیا جس کی خبر الفضل میں چھپ چکی ہے۔اس حادثہ سے پہلے تو یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ بس اب خاتمہ ہی ہے۔جو دوست میرے پیچھے پیچھے آرہے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ جب یکدم آپ کی موٹر گری تو ہمارا دل دہل گیا کہ پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔مگر جب آپ کا رسے باہر نکلے تو آپ کو دیکھ کر ہمیں تسلی ہوگئی کہ آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے صحیح و سلامت نہیں۔پہلے خیال تھا کہ مخاع کٹ گیا ہے لیکن ڈاکٹروں نے دیکھنے کے بعد بتایا کہ ایسا نہیں ہوا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے لیکن میں کار سے باہر نکلا اور سہارا لے کر کھڑا ہو گیا۔ناصر آباد جا کر میرے دائیں پاؤں پر نقرس کا شدید حملہ ہوا لیکن علاج کی وجہ سے جلد ہی افاقہ ہو گیا۔پہلے تو چار پائی کے ساتھ ہی پاٹ رکھنا پڑتا تھا لیکن دوسرے تیسرے دن میں دوسرے کمرہ میں پاٹ کے ساتھ چلا جاتا تھا۔پھر ایک دن ہم باغ میں سیر کے لئے بھی گئے لیکن جب ہم محمود آباد گئے تو چونکہ وہاں کی آب و ہوا میں رطوبت زیادہ تھی اس لئے وہاں مجھ پر نقرس کا دوبارہ حملہ ہوا جو برابر ریل میں بھی کراچی پہنچنے تک جاری رہا۔یہاں