انوارالعلوم (جلد 26) — Page 566
انوار العلوم جلد 26 566 جلسہ سالانہ 1963 ء کے افتتاحی و اختتام گردنیں کاٹ کر خدا کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گئے تھے۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ غزوہ حنین میں دشمنوں کے تیر اندازوں نے اسلامی لشکر پر اپنے تیروں کی بوچھاڑ کی تو اُس وقت مکہ کے نو مسلم بڑے بڑے دعووں کے ساتھ اگلی صفوں میں جارہے تھے۔وہ تیروں کی بوچھاڑ کی تاب نہ لا کر پیچھے کی طرف بھاگے اور ان کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہ کی سواریاں بھی بدک گئیں اور وہ بھی پیچھے کی طرف دوڑنے لگیں۔یہاں تک کہ میدان خالی ہو گیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنے چند صحابہ کے ساتھ کھڑے رہ گئے۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے فرمایا کہ عباس ! تم زور سے آواز دو کہ اے وہ صحابہ جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اے وہ لو گو جو سورہ بقرہ کے زمانہ سے مسلمان ہو خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔صحابہ کہتے ہیں ہمارے کانوں میں یہ آواز آئی تو ہمیں یوں محسوس ہوا کہ جیسے حشر کا دن ہے اور صور اسرافیل پھونکا جا رہا ہے۔اُس وقت ہم میں سے جس کی سواری مرسکی اُس نے موڑ لی اور جس کی سواری نے مڑنے سے انکار کیا اُس نے تلوار سے اُس کی گردن کاٹ دی۔اور خود دوڑتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گیا۔1 اس زمانہ میں بھی اسلامی لشکر اعداء کے نرغہ میں گھرا ہوا ہے اور آج بھی کفر کا ہر سپاہی اسلام پر تیروں کی بوچھاڑ کر رہا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اظلال کے ذریعہ مسلمانوں کو آواز دے رہے ہیں کہ اے مومنو! تمہاری سواریاں کہاں جا رہی ہیں؟ آؤ اور میرے ارد گرد جمع ہو جاؤ۔آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے کہ آپ نے صحابہ کی طرح اپنے دنیوی علائق کی سواریوں کی گردنیں کاٹیں اور اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے اس کے مرکز میں جمع ہو گئے۔پس میں آپ لوگوں کو اس قربانی کی توفیق ملنے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی آپ کو سلسلہ کی ترقی کے لئے ہر قسم کی قربانی کی توفیق دے، آپ کے عمل میں برکت ڈالے اور آپ کو نیکی اور تقویٰ کی صلاحیتوں سے ہمیشہ بہرہ ور رکھے۔