انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 536

انوار العلوم جلد 26 536 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش سلام۔۔صد را مجمن احمدیہ پر قبضہ رہ چکا تھا مجھے گرانے اور نا کام کرنے کے درپے تھے۔اُس وقت خدا ہی تھا جو میری تائید کے لئے اٹھا اور اس نے دوسرے ہی ہفتہ مجھ سے وہ ٹریکٹ لکھوایا جس کا یہ عنوان تھا کہ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور جہاں جہاں یہ ٹریکٹ پہنچا متر د د جماعتوں کے دل صاف ہو گئے اور سنبھل گئے اور وہ تاروں اور خطوط کے ذریعہ میری بیعت کرنے لگیں۔پھر خدا نے مجھے اُنہی دنوں غیر مبایعین کے متعلق الها ما بتایا کہ لَيُمَزِ قَنَّهُمْ یعنی وہ ان لوگوں کی جمعیت کو منتشر کر دے گا۔چنانچہ تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے یہ عظیم الشان انقلاب اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہی جو اپنے آپ کو پچانوے فیصدی کہا کرتے تھے پانچ فیصدی رہ گئے اور جنہیں پانچ فیصدی کہا جاتا تھا وہ پچانوے فیصدی بن گئے۔یہ فوج آخر کہاں سے آئی؟ بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ اس وقت میرے ساتھ جماعت زیادہ ہے اس لئے میں ترقی کر رہا ہوں۔مگر میں کہتا ہوں جب ان کے دعوے کے مطابق میرے ساتھ صرف پانچ فیصدی جماعت تھی تو اُس وقت کون تھا جس نے مجھے پانچ سے پچانوے فیصدی تک جماعت کو لے جانے کی توفیق بخشی۔پھر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ میں نے اس عرصہ دراز میں صرف غیر مبایعین کا ہی مقابلہ نہیں کیا بلکہ میں نے عیسائیوں کا بھی مقابلہ کیا ہے، میں نے ہندوؤں کا بھی مقابلہ کیا ہے اور میں نے غیر احمدی مسلمانوں کا بھی مقابلہ کیا ہے اور وہ کروڑوں کی تعداد میں تھے۔اگر انسانوں پر ہی میری طاقت کا انحصار ہوتا تو کروڑوں مخالفوں کے مقابلہ میں میری ہستی ہی کیا تھی۔مگر وہ کروڑوں ہونے کے باوجود مجھے خدا کے فضل سے نا کام نہ کر سکے اور ہر دن جو مجھ پر چڑھا وہ میری کامیابیوں کو زیادہ سے زیادہ روشن کرتا چلا گیا۔اسی طرح جب تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اندرونی منافقوں نے سر نکالا اور جماعت میں انہوں نے فتنہ پیدا کرنا چاہا تو اُس وقت بھی صرف خدا ہی تھا جس نے میری مدد کی اور میں احمدیت کی کشتی کو پُر خطر چٹانوں میں سے گزارتے ہوئے اسے ساحل کا میابی پر لے گیا۔