انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 436

انوار العلوم جلد 26 436 سیر روحانی (12) حضرت داؤد علیہ السلام پھر قرآن کریم نے حضرت داؤد علیہ السلام کی عزت کی بھی حفاظت کی۔آپ پر بھی بائبل یہ نہایت گندہ الزام کی عزت کی حفاظت لگاتی ہے کہ آپ نے (نعوذ باللہ) اور یاد کی بیوی کے ساتھ زنا کیا اور اور یاہ کو جنگ میں بھجوا کر مروا دیا اور پھر اس سے شادی کر لی چنا نچہ اس میں لکھا ہے :- ایک دن شام کو ایسا ہوا کہ داؤد اپنے بچھونے پر سے اُٹھا اور بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور وہاں سے اُس نے ایک عورت کو دیکھا جو نہا رہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی۔تب داؤد نے اس عورت کا حال دریافت کرنے کو آدمی بھیجے۔انہوں نے کہا کیا وہ اور یاہ کی جو رو نہیں ؟ اور داؤد نے لوگ بھیج کے اس عورت کو بُلا لیا۔چنانچہ وہ اس کے پاس آئی اور وہ اُس سے ہم بستر ہوا۔37 لیکن قرآن کریم نے بائبل کے اس الزام کی تردید کی ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام کو نیک اور خدا تعالیٰ کا پاک بندہ قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَاذْكُرُ عَبْدَنَا دَاوُدَ ذَا الْاَيْدِ إِنَّةَ أَوَّاب 28 وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَابِ 39 یعنی ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو بڑی طاقت کا مالک تھا اور خدا تعالیٰ کی طرف بار بار جھکتا تھا۔وہ ہمارا مقرب تھا اور اُسے ہمارے پاس بڑا اچھا ٹھکا نہ ملے گا۔ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیارا بندہ ایسے ظالمانہ افعال کا مرتکب نہیں ہوسکتا جو بائبل بیان کرتی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ بائبل جس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اسی طرح عیسائیوں کے ہاتھ میں بھی ہے۔اور انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام حضرت عیسی کے دادا تھے۔گویا جس کو وہ خدا مانتے ہیں اُس کے دادا کو وہ زانی کہتے ہیں۔لیکن قرآن کریم جو حضرت مسیح علیہ السلام کی خدائی کا منکر ہے اور جس کے متعلق عیسائی کہتے ہیں کہ یہ ہما را دشمن ہے وہ کہتا ہے کہ داوڑ کے متعلق ایسے الزامات مت لگاؤ وہ تو خدا تعالیٰ کا ایک نیک اور مقرب بندہ تھا۔