انوارالعلوم (جلد 26) — Page 428
انوار العلوم جلد 26 428 سیر روحانی (12) کہتا ہے الْحَمْدُ لِلهِ۔رام چندر جی کا نام آتا ہے تو کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ۔بدھ کا نام آتا ہے تو کہتا ہے اَلحَمدُ لِلهِ۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے میری کتاب میں یہی لکھا ہے کہ ہر قوم میں ہادی آئے ہیں مجھے کوئی تلاش نہیں کرنی پڑی۔ہندوؤں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر کرشن اور رام چندر جی وغیرہ آئے ہیں، بدھوں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر بدھ گزرے ہیں، عیسائیوں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام گزرے ہیں ، یہودیوں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر موسی علیہ السلام گزرے ہیں، یونانیوں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر سقراط گزرا ہے۔سقراط بھی خدا تعالیٰ کا ایک نبی تھا عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یونان میں کوئی نبی نہیں گزرا اور گو یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم وہاں کے کسی نبی کو تلاش کرتے پھریں مگر چونکہ قرآن کریم نے اصولی طور پر کہہ دیا ہے کہ ہر قوم میں کوئی نہ کوئی نبی گزرا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یونان میں بھی نبی آیا ہے اور سقراط کے متعلق تاریخ کہتی ہے کہ وہ کہا کرتا تھا مجھ پر فرشتے اترتے ہیں اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔اُس وقت کی حکومت نے جو بُت پرست تھی اُس کے قتل کی تاریخ مقرر کر دی۔اُس کے ایک شاگرد نے یہ پیشکش کی کہ آپ یہاں سے بھاگ جائیں۔تو سقراط نے جواب دیا کہ مجھے تو فرشتوں نے بتایا ہے کہ تیری موت اس طرح واقع ہوگی۔میں اس موت سے کس طرح بھاگ سکتا ہوں۔20 مذہبی تا ریخ کے سلسلہ میں پھر مذہبی تاریخ کے ضمن میں قرآن کریم نے یہ عظیم الشان انکشاف کیا کہ قرآن کریم کا ایک عظیم الشان انکشاف سمندر میں ڈوبتے وقت فرعون نے تو بہ کر لی تھی اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے رب پر ایمان لے آیا تھا۔اور یہ کہ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ کہا تھا کہ فَاليَوْمَ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً 21 یعنی تو بہت آخری وقت میں ایمان لایا ہے اگر تو پہلے ایمان لاتا تو ہم تیرے جسم اور روح دونوں کو بچالیتے مگر تو چونکہ ڈوبتے وقت ایمان لایا ہے اس لئے ہم