انوارالعلوم (جلد 26) — Page 427
انوار العلوم جلد 26 427 سیر روحانی (12) اولیاء بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں حضرت کرشن اور حضرت رام چندر خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور محبت الہی کی آگ نے اُن کا احاطہ کیا ہو ا تھا۔وو 66 اسی طرح چین میں کنفیوشس کو پیش کیا جاتا ہے گوچینی زبان میں آپ کا نام نبی کی بجائے کچھ اور رکھا گیا ہے اور آپ کو زیادہ تر اُستاد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مگر اسی کو عربی زبان میں نذیر اور ہادی کہتے ہیں۔اسی طرح برما اور سیلون میں حضرت بدھ علیہ السلام کو پیش کیا جاتا ہے کہ وہ خدا رسیدہ انسان تھے اور خدا کا کلام اُن پر نازل ہوتا تھا۔گو بدھ علیہ السلام بہار میں پیدا ہوئے ہیں مگر بہر حال جن قوموں نے انہیں مانا وہ اُن کے لئے ہادی ہی تھے۔ہندوستان نے بھی ایک دفعہ اُن کو مان لیا تھا لیکن بعد میں آپ کے ماننے والوں کو اُس نے ملک سے نکال دیا۔چنانچہ اُن میں سے بعض تبت چلے گئے، بعض بر ما چلے گئے ، کچھ سیلون یا جاپان چلے گئے۔غرض قرآن کریم نے اس ایک آیت میں ہی تمام مذہبی تاریخ عالم بیان کر دی اور سب تاریخوں پر روشنی ڈال دی۔اب اگر ایک عیسائی یا ہند و چین جاتا ہے اور وہاں کنفیوشس کا ذکر سنتا ہے تو وہ اپنی کتاب کے بچاؤ کی فکر میں پڑ جاتا ہے کیونکہ اس نے انجیل اور وید میں پڑھا ہوتا ہے کہ خدا صرف عیسائیوں اور ہندوؤں کا خدا ہے باقی قوموں کا خدا نہیں۔لیکن اگر کوئی مسلمان غیر قوموں میں جاتا ہے اور وہاں اُن کے ہادیوں کا ذکر سنتا ہے تو بجائے کوئی فکر کرنے کے الحَمدُ لِلهِ کہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میری کتاب کی سچائی ظاہر ہوگئی۔مجھے تاریخ عالم میں تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔خود ان قوموں نے میرے سامنے اپنے ہادی پیش کر دیئے اور میری کتاب کی سچائی ظاہر کر دی۔چین والے کنفیوشس کو پیش کرتے ہیں، برما اور سیلون والے بدھ علیہ السلام کو پیش کرتے ہیں تو ہندو و فکر پڑ جاتی ہے، عیسائی کو فکر پڑ جاتی ہے، یہودی کو فکر پڑ جاتی ہے کہ یہ کیا ہوا ہمیں تو بڑی مشکل پیش آگئی۔لیکن ایک مسلمان جہاں کہیں جاتا ہے اُسے کوئی فکر نہیں ہوتی۔اُس کے سامنے کنفیوشس کا نام پیش کیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ۔اُس کے سامنے زرتشت کا نام پیش کیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ۔کرشن کا نام آتا ہے تو