انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 339

انوار العلوم جلد 26 339 سیر روحانی (11)۔اِس طرح نہ کرتا تو پھر وہ اس کا خلیفہ بھی نہ رہتا۔پس جو کچھ اُس نے کیا ہے وہ عین وفا شعاری اور وفاداری کا طریق تھا۔31 پس دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ نے کس طرح قرآنی لنگر کو روحانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی ظاہر کیا۔آخر انہوں نے کہا کہ اس ذلت کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں؟ اُس نے کہا کہ اس کا علاج عمر ہی بتا سکتے ہیں ، چلو عمر کے پاس چلیں اور اُن سے پوچھیں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا۔ہمارے باپ دادوں نے شرارتیں کیں اور وہ ختم ہو گئیں ، اب ہم ان کو بدل نہیں سکتے مگر آپ ہمیں بتائیں کہ ہم سے اس ذلت کا داغ کس طرح دُور ہو سکتا ہے۔چنانچہ وہ واپس گئے حضرت عمر اُن کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ وہ کیوں آئے ہیں۔آپ نے فرمایا اے بچو! میں تمہارے باپ دادا کو جانتا ہوں۔وہ مکہ کے رئیس تھے اور ملکہ اُن کے قدموں کے پیچھے چلتا تھا۔مجھے پتا ہے کہ جو کچھ آج میں نے تمہارے ساتھ سلوک کیا ہے اِس سے تمہارے دلوں کو زخم پہنچا ہو گا مگر میں مجبور تھا میرا آقا بھی ان غلاموں کو دوسروں پر فضیلت دیا کرتا تھا اور ان کو آگے بٹھاتا تھا اس لئے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہو کر اس کی خلاف ورزی کس طرح کر سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ سب باتیں درست ہیں ہم تو صرف یہ دریافت کرنے آئے ہیں کہ آخر اس ذلت کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں؟ ان کا سوال سن کر حضرت عمر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے شام کی طرف ہاتھ اُٹھا دیا جس میں اِس طرف اشارہ تھا کہ شام چلے جاؤ اور اُس جہاد میں شامل ہو جاؤ جو روم کے بادشاہ کے خلاف مسلمان کر رہے ہیں۔اس پر وہ لڑکے فوراً اُٹھ کر باہر آگئے اور گھوڑوں پر سوار ہو کر شام کی طرف چلے گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سب کے سب اسلام کی تائید میں لڑتے ہوئے وہیں مارے گئے اور اُن میں سے کوئی بھی زندہ واپس نہ آیا۔اب دیکھو قرآن کریم کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے دشمنوں کے بیٹے چھین کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے اور آپ کا لنگر جاری کر دیا۔جس وقت یہ لوگ عیسائیوں کو مارتے ہوں گے تو ہر عیسائی کے مرنے پر جہاں اُن کو فتح نصیب ہوتی تھی وہاں محمد رسول اللہ کا لنگر بھی جاری ہوتا تھا اور آپ کی برکات ساری دنیا پر پھیلتی جاتی تھیں۔