انوارالعلوم (جلد 26) — Page 332
انوار العلوم جلد 26 332 سیر روحانی (11) میں غیرت اور شرم ہے تو جاؤ اور جا کر بدلہ لو۔حضرت حمز کا یہ سنتے ہی سیدھے خانہ کعبہ میں گئے کیونکہ اُن لوگوں میں رواج تھا کہ شام کے وقت سارے رؤساء وہاں اکٹھے ہو جاتے تھے۔انہوں نے دیکھا کہ ابو جہل جو سردارانِ مکہ میں سے سمجھا جاتا تھا وہ مسند پر بیٹھا ہوا ہے اور اُس کے ارد گر دیکہ کے تمام رؤساء بیٹھے ہوئے ہیں۔حضرت حمز کا جب وہاں پہنچے تو انہوں نے کمان اُٹھا کر زور سے اُس کے منہ پر ماری اور کہا کہ مجھے پتا لگا ہے کہ تو نے آج محمد کے منہ پر تھپڑ مارا ہے اور اُس نے نہ پہلے کچھ کہا تھا اور نہ بعد میں کچھ کہا۔اب اگر تم میں کچھ ہمت ہے اور کوئی بہادری تم میں پائی جاتی ہے تو آ اور میرے ساتھ لڑ کر دکھا پھر تجھے پتا لگے گا۔محمد جو کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھا تا تیری ساری بہادری اُسی پر چلتی ہے۔جو مقابلہ کرنے والے اور سپاہی لوگ ہیں اُن سے تو لڑکے دکھا پھر ہم مانیں گے کہ تو بہادر ہے۔اس پر سارے رؤساء کھڑے ہو گئے اور انہوں نے حضرت حمزہ کو پکڑ لیا اور مارنے لگے کہ اُس نے ہمارے لیڈر کو مارا ہے۔مگر اُس وقت خدا تعالیٰ نے ابو جہل کے دل پر ایسا رعب ڈالا کہ وہ اُن سے کہنے لگا۔نہیں نہیں ! اسے کچھ نہ کہو اصل میں آج مجھ سے ہی کچھ زیادتی ہوگئی تھی اور غلطی میری ہی تھی۔میں نے محمد پر بلا وجہ ظلم کر دیا ، اُس نے مجھے کچھ نہیں کہا تھا۔نہ پہلے نہ بعد میں۔اس لئے حمزہ اپنے بھتیجے کی تائید میں جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے اسے مت مارو - 26 چنانچہ وہ لوگ رُک گئے۔تو ابو جہل اپنی قوم کا سردار تھا اور ہمیشہ لوگوں سے کہتا رہتا تھا کہ محمد ( رسول اللہ ) اگر کوئی بات کہا کریں تو کبھی نہ مانا کرو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوی نبوت سے پہلے ایک مظلوم اور ستم رسیدہ انسان سے حسن سلوک دفعہ حلف الفضول میں شامل ہو گئے تھے۔یہ ایک مجلس تھی جو فضل نامی تین چار آدمیوں نے قائم کی اور انہوں نے ایک دوسرے سے قسمیں لی تھیں کہ جب کوئی مظلوم مکہ میں آئے اور وہ ہم سے مدد مانگے تو ہم اُس کی ضرور مدد کریں گے۔جب یہ مجلس قائم ہوئی تو انہوں نے آپ کو بھی اُس میں شامل ہونے کی دعوت دی، آپ بڑے شوق سے شامل ہو گئے۔اس کے بعد دعوی نبوت