انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 331

انوار العلوم جلد 26 331 سیر روحانی (11) بے شک بعض عورتیں ایسی بھی ہوئی ہیں جنہوں نے شادی نہیں کی لیکن شادی نہ کرنے سے اُن کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈرتی تھیں کہ مرد آ گیا تو ہم پر حکومت کرے گا۔مثلاً رضیہ سلطانہ نے جو غلام خاندان میں سے تھی ابتدا میں شادی نہیں کی مگر آخر وہ بے شادی کے نہ رہ سکی۔اسی طرح یورپ میں بعض حکومتیں ہیں جن کی شہزادیوں نے شادی نہیں کی مگر اُن کا شادی نہ کرنا صاف بتا تا ہے کہ وہ ڈرتی تھیں کہ اگر شادی کی تو مرد کے تابع رہنا پڑے گا۔ملکہ وکٹوریہ کی شادی البرٹ وکٹر سے ہوئی تھی۔اور میں نے ملکہ کی ہسٹری میں پڑھا ہے کہ وہ روٹھ جاتا تھا تو وہ دروازے بند کر لیتا تھا اور ملکه معظمه ساری دنیا کی بادشاہ ہو کر اُس کی منتیں کیا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ دروازہ کھول دو تم جو کچھ کہومیں وہی کروں گی۔اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کی پیشگوئی کا ظہور غرض یہ جو پیشگوئی تھی کہ محمد رسول اللہ کا دشمن ہمیشہ ابتر یعنی بے اولا د رہے گا اس کے پورا ہونے کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ابو جہل تھا اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہ تھا۔ابوجہل کمبخت وہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت کیا تو ایک دفعہ آپ صفا پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اُس نے زور سے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا۔امیر حمزہ جو آپ کے چچا تھے اُس وقت باہر شکار کے لئے گئے ہوئے تھے۔جب وہ شکار سے واپس آئے تو اُن کے گھر کی ایک لونڈی جس نے پردہ کے پیچھے سے یہ تمام نظارہ دیکھا تھا بڑے غصہ سے اُن کو دیکھ کر کہنے لگی ، تجھ کو شرم نہیں آتی کہ تو تیر کمان لٹکائے فوجی بنا پھرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ بڑا بہادر ہے، میں نے دیکھا کہ آج تیرے بھیجا کے منہ پر ابو جہل نے بڑے زور سے تھپڑ مارا اور وہ سر ڈالے بیٹھا تھا۔خدا کی قسم ! اُس نے ابو جہل کو کوئی لفظ نہیں کہا تھا اور اُس کا کوئی قصور نہیں تھا۔وہ سر جھکائے چُپ کر کے بیٹھا تھا اور اپنے خیالات میں مگن تھا کہ وہ آیا اور اس نے تھپڑ مارا اور پھر بعد میں بھی محمد نے کچھ نہیں کہا۔وہ دایہ تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتی تھی۔اُس نے کہا کہ محمد نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے چلا گیا۔اگر تم