انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 313

انوار العلوم جلد 26 313 سیر روحانی (11) 66 کہ اس میں کچھ مضامین حضرت خلیفہ اول نے بھی لکھے تھے جن میں پیغا میوں کو بُرا بھلا کہا گیا تھا۔اور ایک جگہ پر تو آپ نے یہ الفاظ تحریر فرمائے تھے کہ ”ہزار ملامت پیغام پر جس نے اپنی چٹھی شائع کر کے ہمیں پیغام جنگ دیا اور نفاق کا بھانڈا پھوڑ دیا۔“ پس میں اگر کہہ دیتا کہ مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لی جائے تو سب لوگ مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لیتے مگر خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ یہ کام ان سے نہ لے بلکہ مجھ سے لے۔سوخدا تعالیٰ نے مجھ کو ہی کھڑا کیا اور وہ ناکام رہے۔یہ تیسری مثال ہے اس بات کی کہ مصلح موعود کے لئے خدا تعالیٰ نے متواتر نشان دکھائے اور اس کی انگلی بار بار اس طرف اُٹھتی تھی کہ میں ہی وہ شخص ہوں جس سے خدا تعالیٰ یہ کام لینا چاہتا ہے۔اور پھر میرے عمل نے بھی اس بات کو ثابت کر دیا۔آج مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر قرآن بھی موجود ہے اور میری تفسیر بھی۔ان کی تفسیر تین جلدوں میں ہے اور اس کے 1995 صفحات ہیں اور میری تفسیر قرآن آب تک 3366 صفحات تک مکمل ہو چکی ہے اور 1354 صفحہ کی آب تفسیر صغیر چھپی ہے۔اگر یہ تفسیر کبیر مکمل ہو جائے تو میرا خیال ہے کہ وہ سات ہزار صفحہ کی کتاب ہو جائے گی اور مولوی صاحب کی اس کے مقابلہ میں صرف ہیں سو صفحہ کی کتاب ہو گی۔پھر اگر دوسری کتابیں دیکھی جائیں جیسے دعوۃ الامیر وغیرہ ہیں اور ان کے صفحات بھی اس میں شامل کئے جائیں تو میری تفسیر کے غالباً بیس ہزار سے زیادہ صفح ہو جائیں گے اور مولوی صاحب کی کتابیں ان کے مقابلہ میں رکھی جائیں تو وہ بالکل بیچ نظر آئیں گی۔پھر مبلغین کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے مجھے یورپ میں تبلیغ اسلام کی ایسی توفیق دی کہ شیخ محمد طفیل صاحب جو غیر مبائعین کے مبلغ ہیں اور آجکل ایمسٹرڈم (Amsterdam) ( ہیگ) میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے ایک دفعہ ”پیغام صلح میں مضمون لکھا کہ اس وقت مغربی دنیا میں ہالینڈ، جرمنی ، سپین اور سوئٹزر لینڈ میں مبائعین کے مبلغ کام کر رہے ہیں اور سب ہی پڑھے لکھے مخلص نوجوان ہیں اور سات آٹھ سال ان ممالک میں رہنے کی وجہ سے مغربی زبانوں سے بھی كَمَا حَقَّهُ واقف ہو چکے ہیں اور ان میں تحریر وتقریر کی کافی مہارت پیدا کر چکے ہیں۔اس کے