انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 258

انوار العلوم جلد 26 258 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔میں چونکہ چندے تھوڑے تھے میں نے زیادہ تختی کی تھی اور کہا تھا کہ ہر شخص اپنے گزشتہ سال کے چندہ سے ڈیوڑھا دے۔مگر اب میں اس قید کو ہٹاتا ہوں کیونکہ لوگوں نے خود اپنی مرضی سے چندوں کو زیادہ کر دیا ہے۔اب میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی شخص اپنے پچھلے سال کے چندہ سے کم نہ دے اور اگر زیادہ دے سکے مثلاً دس فیصدی زیادہ دے سکے یا پندرہ فیصدی زیادہ دے سکے یا بیس فیصدی زیادہ دے سکے تو یہ اُس کی مرضی ہے اور اُس کا یہ فعل اسے مزید ثواب کا مستحق بنا دے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے 3 کیونکہ نفل انسان اپنی مرضی سے ادا کرتا ہے اور فرض حکم کے ماتحت ادا کرتا ہے۔ابھی ہماری شوری کے آنے میں جب نئے سال کا بجٹ تیار ہوتا ہے پانچ ماہ باقی ہیں۔پانچ ماہ تک یہ چندہ جمع کرتے چلے جائیں اور اس کی تحریک دوستوں کو بار بار کریں تا کہ پانچ ماہ کے بعد اس سال کا چندہ پچھلے سال کے چندہ سے بھی زیادہ ہو جائے اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے سارے یورپ میں مساجد بنا سکیں اور افریقہ اور انڈونیشیا وغیرہ میں بھی اپنے مبلغ بڑھا سکیں۔یہی ذریعہ ہماری کامیابی کا ہے۔اس وقت غیر فرقوں پر اگر ہمیں کوئی فضیلت حاصل ہے تو یہی ہے کہ ہمارے مبلغ غیر ملکوں میں پائے جاتے ہیں اور اُن کے نہیں پائے جاتے۔اس کا اتنا اثر ہے کہ پرسوں مجھے کو یت سے ایک جرمن کا خط ملا اُس نے لکھا ہے کہ میں دیر سے اسلام کی طرف مائل ہوں لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اسلام کی تعلیم کہاں سے حاصل کروں۔یہاں ایک موسیٰ نامی شخص ہیں۔(موسیٰ کوئی غیر احمدی ہیں غالباً بمبئی کی طرف کے ہیں کیونکہ اس علاقہ میں ایسے نام رکھے جاتے ہیں ) اُن کو پتا لگا کہ مجھے اسلام کی طرف رغبت ہے تو انہوں نے کہا اگر تو اسلام سیکھنا چاہتا ہے تو ربوہ چلا جا اور تو کہیں نہیں سیکھ سکتا۔پس میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لئے کوئی انتظام کریں۔مجھ سے موسیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ خرچ میں دوں گا۔میں نے اُسے لکھا ہے کہ خرچ کا سوال نہیں۔ہمیں صرف یہ ضرورت ہے کہ تم اپنی طبیعت کو کم خرچ کرنے کی عادت ڈالو کیونکہ وہی مبلغ کامیاب ہو سکتا ہے جسے کم خرچ کرنے کی عادت ہو۔مسٹر گنزے یہاں سے تعلیم حاصل کر کے گئے