انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 259

انوار العلوم جلد 26 259 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔ہیں اور اب وہ شکاگو (امریکہ ) میں ہمارے مبلغ ہیں۔ان کو ہم جو گزارہ دیتے تھے تم بھی اگر آؤ تو وہی وظیفہ ہم تمہیں دے دیں گے۔اپنے لڑکوں کو ہم چالیس روپے دیتے ہیں اور دوسروں کو ساٹھ۔اسی طریق کے مطابق اگر تم گزارہ کر سکو تو یہاں آ جاؤ۔تعلیم حاصل کر کے چلے جانا اور اپنے ملک میں تبلیغ کرنا۔ہمیں موسی کے روپیہ کی ضرورت نہیں ہم خود تم کو وظیفہ دینے کے لئے تیار ہیں۔لیکن اگر تم یہ کہو کہ میرا چھ ہزار روپیہ میں گزارہ ہوتا ہے تو اس کی ہمیں توفیق نہیں کیونکہ ہم نے تو باہر سے کئی لوگوں کو بلوا کر انہیں تعلیم دلانی ہے۔اگر ہم پچاس آدمی بھی منگوائیں اور چھ ہزار روپیہ ماہوار ہر ایک کا خرچ دیں تو تین لاکھ روپیہ بن جاتا ہے اور اس کی ہمیں توفیق نہیں۔ابھی اُس کا جواب تو نہیں آیا لیکن اگر وہ یہاں آ گیا اور پھر جرمنی سے بھی ایک پادری آرہا ہے تو یہ دو ہو جائیں گے۔پھر ایک اور نوجوان آسٹریلیا کا ہے۔اسے کچھ عربی بھی آتی ہے۔وہ بچپن میں تیونس چلا گیا تھا اور مدت تک وہیں رہا کوئی پندرہ ہیں سال وہاں رہ کر آسٹریلیا واپس آیا ہے۔اس نے بھی لکھا ہے کہ میں اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتا ہوں۔اگر وہ بھی آ گیا تو تین بن جائیں گے۔پھر ایک شخص فلپائن سے آ رہا ہے وہاں کی گورنمنٹ اس کے رستہ میں روکیں ڈال رہی ہے اس لئے وہ ابھی تک نہیں آسکا لیکن اگر وہ آ گیا تو چار ہو جائیں گے۔نیو یارک سے اطلاع آئی ہے کہ ایک حبشی جو پہلے پادری تھا وہ بھی آنا چاہتا ہے اگر وہ آ گیا تو پانچ ہو جائیں گے۔غرض اس وقت تک ہمارے پاس قریباً دس ممالک کے لوگوں کی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں کہ ہم یہاں آنا چاہتے ہیں بلکہ اب تو بھارت بھی غیر ملک ہی ہے۔بھارت سے بھی درخواستیں آتی رہتی ہیں۔تھوڑے دن ہوئے ایک سکھ کی چٹھی آئی تھی کہ میں دین سیکھنا چاہتا ہوں اس کا انتظام کر دیں۔غرض اللہ تعالیٰ دنیا میں چاروں طرف اسلام کی اشاعت کے لئے رستے کھول رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھاتی چلی جائے تا کہ ہر جگہ اسلام کو کامیابی کے ساتھ پھیلا یا جا سکے۔بے شک دنیا ہماری مخالف ہے مگر کامیابی الہی سلسلہ کے لئے ہی مقدر ہوتی