انوارالعلوم (جلد 26) — Page 229
انوار العلوم جلد 26 229 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زن عکرمہ کو معاف کر دیا ہے۔وہ اگر چاہے تو مکہ واپس آجائے اور یہاں امن سے رہے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔بلکہ میں نے تو آپ سے یہ عہد بھی لے لیا ہے کہ تم اپنے دین پر قائم رہنا چاہو تو قائم رہو تمہیں اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے گا۔چنانچہ عکرمہ واپس آ گیا۔اس کی بیوی اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کا بھتیجا واپس آگیا ہے۔پھر عکرمہ نے اسے اشارہ کیا کہ اب مجھے بولنے دو۔چنانچہ عکرمہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا۔میری بیوی میرے پیچھے گئی تھی اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے میری ساری دشمنیوں کے باوجود مجھے معاف کر دیا ہے اور اب آپ مجھے قتل نہیں کریں گے۔کیا یہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں تمہاری بیوی سچ کہتی ہے۔پھر عکرمہ نے کہا اس نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ آپ نے مجھے اجازت دے دی ہے کہ اگر چاہوں تو اپنے مذہب پر قائم رہوں مجھے اسلام قبول کرنے کے لئے نہیں کہا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی نے ٹھیک کہا ہے۔اس پر عکرمہ نے بے اختیار کہا۔اَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ - رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکرمہ ! یہ کیا ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے اور میرے باپ نے جو دشمنیاں آپ سے کیں ان کے ہوتے ہوئے آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے اور جو شخص شدید دشمنوں کو معاف کر سکتا ہے اور پھر ان کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اپنے مذہب پر قائم رہیں وہ نبی کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔یا رسول اللہ ! میں تو سیاسی طور پر مکہ واپس آیا تھا لیکن جب آپ نے اپنے منہ سے فرما دیا کہ آپ مجھے نہ صرف قتل نہیں کریں گے بلکہ اپنے دین پر قائم رہنے کی بھی اجازت دیں گے تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ سچے ہیں اور خدا تعالیٰ کے رسول ہیں۔یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنا ہاتھ دیں کہ میں آپ کی بیعت کروں۔چنانچہ عکرمہ نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کر لی۔2 پھر بعد میں اس نے ایمان میں اتنی ترقی کی کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جنگ یرموک میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی جانیں خطرہ میں تھیں اور مسلمان کثرت سے مارے جارہے تھے تو اسلامی کمانڈر انچیف حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا کہ میں