انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 213

انوار العلوم جلد 26 213 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔کے پاس پہنچی اور پوچھا کہ بتاؤ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ چونکہ وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھے اس لئے انہوں نے کہا بی بی ! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا باپ اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اس عورت نے کہا میں تجھ سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھتی مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس پر اسی صحابی نے کہا بی بی! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا خاوند بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اس عورت نے کہا تم بھی عجیب آدمی ہو میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال کرتی ہوں اور تم مجھے میرے باپ اور میرے خاوند کی موت کی خبر دیتے ہو۔اس نے کہا بی بی ! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا بھائی بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اُس نے کہا خدا کیلئے تم مجھے یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے خیر سے ہیں۔اس عورت نے کہا الْحَمْدُ لِلهِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو مجھے اپنے باپ اور بھائی اور خاوند کی موت کی کوئی پرواہ نہیں۔پھر اس نے کہا مجھے بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہاں؟ اِس پر اُس صحابی نے آپ کی طرف انگلی کا اشارہ کیا اور کہا کہ آپ وہ ہیں۔اس پر وہ عورت آپ کی طرف بھاگ کر گئی اور اُس نے آپ کے دامن کو پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ! آپ نے یہ کیا کیا ؟ یہ فقرہ بظاہر بے معنی تھا لیکن در حقیقت یہ غلط نہیں تھا۔بلکہ عورتوں کے محاورہ کے مطابق بالکل درست تھا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ جیسا وفادار انسان ہم کو یہ صدمہ پہنچانے پر کس طرح راضی ہو گیا ؟ پھر اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔جب آپ سلامت ہیں تو کسی اور کی موت کی ہمیں کیا پر واہ ہوسکتی ہے۔4 تو دیکھو ان لوگوں میں اس قدرا خلاص ، جوش اور ایمان تھا کہ ہر خدمت جو وہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے تھے اس میں اپنی عزت اور رتبہ محسوس کرتے تھے چنانچہ اسی قسم کی فدائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخ سے ملتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ شہداء کو دفن کر کے مدینہ واپس کو ٹے تو عورتیں اور بچے شہر سے باہر