انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 214

انوار العلوم جلد 26 214 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔استقبال کے لئے نکل آئے۔رسول کریم صلی اللہ صلی علیہ وسلم کی اونٹنی کی باگ حضرت سعد بن معاذ نے پکڑی ہوئی تھی۔اُحد میں ان کا ایک بھائی بھی مارا گیا تھا۔شہر کے پاس انہیں اپنی بوڑھی ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی ملی تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میری ماں۔یا رسول اللہ ! میری ماں۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے۔بڑھیا آگے بڑھی اور اس نے اپنی کمزور اور پھٹی ہوئی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آ جائے۔آخر اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہو گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مائی ! مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔اس پر اُس عورت نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو گویا میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔5 ایسے موقع پر عموماً ہر عورت چاہتی ہے کہ کوئی شخص آئے اور اس سے ہمدردی کرے لیکن اس عورت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمدردی کا اظہار کیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! آپ میرے بیٹے کا کیا ذکر کرتے ہیں آپ سلامت واپس آگئے ہیں تو مجھے کسی چیز کی پروا نہیں۔آپ یوں سمجھیں کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا ہے تو صحابہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جانیں دینا اپنی خوش قسمتی خیال کرتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو کسی کام کے لئے باہر بھیجا۔بعد میں جنگ تبوک کا واقعہ پیش آ گیا۔یہ جنگ نہایت خطر ناک تھی۔رومی حکومت اُس وقت ایسی ہی طاقتور تھی جیسے آج کل امریکہ اور روس کی حکومتیں ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چھوٹی سی فوج لے کر اتنی بڑی حکومت کے مقابلہ میں جانا پڑا۔مدینہ میں بہت تھوڑے مسلمان تھے اور پھر اردگرد کے لوگ بھی اکٹھے نہیں تھے لیکن اگر وہ اکٹھے ہوتے بھی تو قیصر روما کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام لوگ جنگ کے لئے چلیں۔جب اسلامی لشکر روانہ ہو گیا تو وہ صحابی جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر کام کے لئے بھیجا ہوا تھا واپس آئے۔جوان آدمی تھے۔نئی نئی شادی ہوئی ہوئی تھی۔ایک عرصہ کی جدائی کے بعد جب وہ اپنے گھر میں داخل