انوارالعلوم (جلد 26) — Page 152
انوار العلوم جلد 26 152 سیر روحانی (10) دوسرے لفظوں میں مسیح کو ابن اللہ ہونے سے جواب دیتی ہے۔کیونکہ اگر وہ ابن اللہ ہے تو وہ جوڑا ہے خالق نہیں۔وہ منفرد نہیں ، وہ محتاج ہے ایک باپ کا جو اس کو وجود میں لایا ہے۔وہ محتاج ہے ایک ماں کا جو اس کو وجود میں لائی ہے۔اور جب وہ مخلوق ہو ا تو وہ محتاج ہے بیوی کا بھی تا کہ وہ اولاد پیدا کرے اور اگر وہ بیوی کا محتاج نہیں تو مخنث ہے جو ذلیل ہو اکرتا ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے تا کہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔ایک نصیحت تو یہ حاصل کرو کہ جب ساری مخلوق کو دیکھو کہ وہ جوڑا جوڑا ہے تو سمجھ جاؤ کہ وہ مخلوق ہے اور خدا نے پیدا کی ہے۔دوسرے تم سمجھ لو کہ جو جوڑا نہیں وہ خالق ہے اور وہ ایک ہی ہے اور وہی سچا احد ہے اور کوئی احد نہیں ہوسکتا اس لئے وہ مخلوق بھی نہیں ہوسکتا اور اس طرح توحید کامل پر قائم ہو جاؤ۔ہر چیز کے جوڑا ہونے کے بارہ میں مخلوق کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے سب کو جوڑا جوڑا بنایا ہے یہ علم قرآن کریم کا بے مثال علمی نکتہ بھی قرآن کریم سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھا۔سارا دید پڑھ جاؤ ، ساری بائبل پڑھ جاؤ ، ساری انجیل پڑھ جاؤ ،ساری ژند اوستا پڑھ جاؤ، یونان کے فلاسفروں کی کتابیں پڑھ جاؤ ، ہندوستان کے فلاسفروں کی کتابیں پڑھ جاؤ، چین کے کنفیوشس نبی کی کتابیں پڑھ جاؤ،شنٹو ازم جو جاپان کا مذہب ہے اُس کی کتابیں پڑھ جاؤ ، غرض بدھوں کی کتابیں پڑھو، یہودیوں کی پڑھو، عیسائیوں کی پڑھو، ہندوؤں کی پڑھو، یونانیوں کی پڑھو، کسی مذہب کی کتاب پڑھو، یہ نکتہ تمہیں کہیں نظر نہیں آئے گا کہ ہر چیز کا جوڑا ہے۔صرف قرآن کریم ایک کتاب ہے جو کہتی ہے کہ ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔اور یہ جوڑے اس لئے پیدا کئے ہیں تا کہ ان کی حکمت سے تمہیں خدا کی تو حید کی طرف توجہ ہو۔یہ علم جو قرآن کریم سے پہلے کسی کو نہیں تھا تی کہ الہامی کتابوں میں بھی نہیں تھا ، نہ ویدوں میں تھا، نہ بدھ کی پستکوں نے میں تھا ، نہ یونانیوں کی کتابوں میں تھا ، نہ ایرانیوں کی کتابوں میں تھا ، نہ یہودیوں کی کتابوں میں تھا، نہ عیسائیوں کی کتابوں