انوارالعلوم (جلد 26) — Page xix
انوار العلوم جلد 26 8 تعارف کتب نذرانہ دے دیا۔میں نے سمجھا کہ اتنا بڑا نذرانہ مجھے اپنی ذات پر استعمال کرنے کی بجائے سلسلہ کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے وہ سارے کا سارا نذرانہ اسلام کی اشاعت کے لئے دے دیا۔مگر اس کے باوجود میری نیت یہی ہے کہ میں اپنے چندہ کو بڑھا دوں۔66 (6) مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب ماہ اکتو بر پاکستان میں ذیلی تنظیموں کے سالانہ اجتماعات کا مہینہ تھا۔امسال بھی مینوں تنظیموں کے سالانہ اجتماعات ماہ اکتوبر میں ہی ہوئے اور ہر تین مواقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے خطابات فرمائے۔سب سے پہلا اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ کا 11 تا 13۔اکتوبر 1957 ء ربوہ میں منعقد ہوا۔جس میں 13 اکتو بر کو آخری روز آپ نے اختتامی خطاب فرمایا۔حضور نے اپنے خطاب میں خدام کو خدمت دین تبلیغ اسلام، مساجد کی تعمیر اور اس کی آباد کاری اور صحابہ کرام کے اپنے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار، محبت اور عقیدت کے واقعات بیان فرما کر خدام کو صحابہ کا نمونہ اپنا کر مالی اور جانی قربانیوں میں پیش پیش رہنے کی تلقین فرمائی۔حضور نے یورپ میں ہر سال 50 مساجد کی تعمیر کا عزم ظاہر فرمایا۔اس کے لئے خدام کو اپنے عزیز و اقارب کو تبلیغ کر کے احمدی بنانے کی تلقین فرمائی تا ان کی مالی قربانی سے جلد از جلد اپنے ٹارگٹ کو حاصل کر لیں۔حضور نے مساجد کی تعمیر اور اس کی آبادکاری کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: یا در کھود لہن ہمیشہ دولہا کے گھر ہی بسا کرتی ہے ہمسایہ کے گھر میں نہیں بسا کرتی۔پایوں کہو کہ دولہا کے گھر دلہن ہیں بسا کرتی ہے ہمسائی نہیں بسا کرتی۔مساجد کا کام ہماری ولین ہے اور اس نے ہمارے ہی گھر آتا ہے کسی اور کے گھر نہیں جانا۔یہ ہماری بے غیرتی ہوگی کہ یہ کام کسی اور کے گھر چلا جائے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں