انوارالعلوم (جلد 26) — Page 65
انوار العلوم جلد 26 65 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیة کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمد یہ موجودہ قادیان واقرباء حضرت مسیح موعود با جازت حضرت اماں جان) گل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اُس وقت بارہ سوتھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا۔31 (میں نے بھی اسی قانون کے مطابق نیا نظام بنایا ہے۔صرف تحریک کے وکلاء کو زائد کر دیا۔کیونکہ اب جماعت احمدیہ کے باہر پھیل جانے کی وجہ سے اس کا مرکزی نظام دوحصوں میں تقسیم ہو گیا ہے) اس اشتہار سے پہلے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کے وقت مولوی محمد علی صاحب۔اختلاف کا اظہار کیا جیسا کہ وہ خود اپنی کتاب ”حقیقتِ اختلاف میں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش مبارک جب قادیان میں پہنچی تو باغ میں خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہ تجویز ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے جانشین حضرت مولوی نورالدین صاحب ہوں۔میں نے کہا بالکل صحیح ہے اور حضرت مولوی صاحب ہی ہر طرح سے اس بات کے اہل ہیں۔اس کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ بھی تجویز ہوئی ہے کہ سب احمدی ان کے ہاتھ پر بیعت کریں۔میں نے کہا اس کی کیا ضرورت ہے جو لوگ نئے سلسلہ میں داخل ہوں گے انہیں بیعت کی ضرورت ہے اور یہی الوصیۃ کا منشاء ہے۔خواجہ صاحب نے کہا کہ چونکہ وقت بڑا نازک ہے ایسا نہ ہو کہ جماعت میں تفرقہ پیدا ہو جائے اور احمدیوں کے حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لینے سے کوئی حرج بھی نہیں۔تب میں نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔32 غرض خواجہ صاحب کے سمجھانے سے مولوی محمد علی صاحب حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر راضی ہو گئے اور اس طرح خلافتِ اولیٰ کا قیام بغیر مخالفت کے ہو گیا۔گو اس کے بعد اس فتنہ نے