انوارالعلوم (جلد 25) — Page 72
انوار العلوم جلد 25 72 سیر روحانی (8) اس مقدس جاگیر کو چھیننے کی یہ وہ جائداد ہے جسکے مقابلہ میں دنیا کی کوئی اور جائداد پیش نہیں کی جاسکتی۔وہ حکومتیں کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا بدل گئیں جن کے سپر د جائداد کی گئی تھی، ابراہیم" چلا گیا، اسمعیل چلا گیا، وہ جن کو یہ جائداد دی گئی تھی ختم ہو گئے نئی حکومتیں اور نئی بادشاہتیں آگئیں۔یمن کا عیسائی بادشاہ اس ملک پر قابض ہو کے آگیا لیکن اس جائداد کے متعلق اُس نے فرمایا کہ خبردار! اگر اُس کو چھیڑا تو ہم فور اسیدھا کر دیں گے اور جب وہ باز نہ آیا تو اُس کو سیدھا کر دیا۔چنانچہ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُبِ الْفِيلِ اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ - 27 ہے اُن لوگوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ اُن کے بڑے بڑے بُرے ارادے تھے نے اُن کے ارادوں کو کچل کر رکھ دیا اور اپنی جاگیر کو محفوظ رکھا کیونکہ ہم نے کہا میں خدا اس جاگیر کا دینے والا ہوں کوئی انسان اس کو چھین نہیں سکتا۔گزشتہ جنگ عظیم میں اٹلی کا پھر اس کے بعد اسلام کی حکومت رہی۔خانہ کعبہ کی حفاظت کرنے والے لوگ ناپاک ارادہ اور اُس کی ناکامی موجود رہے لیکن جب پچھلی جنگ آئی تو پھر ایسی حکومتیں پیدا ہوئیں جنہوں نے یہ بد ارادہ کیا کہ ترکوں کو اُس وقت تک شکست نہیں دی جاسکتی جب تک کہ مکہ کونہ لیا جائے۔چنانچہ اٹلی نے یہ ارادہ ظاہر کیا مگر یزوں اور دوسری قوموں نے اُس کو کہا کہ اس کی ہم ہرگز اجازت نہیں دینگے کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو ساری اسلامی دنیا ہمارے خلاف ہو جائیگی اور یہ جنگ جیتنی ہمارے لئے مشکل ہو جائیگی چنانچہ خدا تعالیٰ نے پھر ایسے سامان کر دیئے کہ مکہ محفوظ کا محفوظ رہا۔بیت اللہ کی تقدیس اور اُس کی یہ جاگیر اتنی پرانی ہے کہ یونان کے مؤرخ حضرت مسیح کی پیدائش سے پہلے عظمت کا زمانہ قدیم سے اعتراف لکھتے ہیں کہ تاریخ کا جب سے پتہ لگتا ہے یہ مقام عرب میں مقدس چلا آرہا ہے اور لوگ اِس کی زیارت کو جاتے ہیں۔تاریخ کہیں