انوارالعلوم (جلد 25) — Page 40
انوار العلوم جلد 25 40 سیر روحانی (8) جن کو تم میرا شریک قرار دیا کرتے تھے ؟ تو فرماتا ہے وہ ایک ہی جواب دیں گے، جیسے ہمیشہ مجرم جواب دیتے آئے ہیں کہ وَاللهِ رَبَّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ۔اے ہمارے رب! تیرے سامنے ہم نے جھوٹ بولنا ہے؟ تو ہمارا خدا ہم تیرے بندے، تیرے سامنے تو ہم جھوٹ نہیں بول سکتے۔مُجرم ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے ہیں کہ حضور کے سامنے جھوٹ بولنا ہے ؟ آپ کے سامنے تو ہم نے جھوٹ نہیں بولنا۔سچی بات یہ ہے کہ ہم کبھی شرک کے قریب بھی نہیں گئے ، ہم نے کبھی شرک کیا ہی نہیں، یہ سب جھوٹ ہے اور یہ ڈائریاں یو نہی جھوٹی لکھتے رہے ہیں۔اب یہ سمجھ لو کہ جس طرح یہاں پولیس سچی ڈائری دے اور مجسٹریٹ کے سامنے یہ سوال آجائے کہ پولیس جھوٹی ہے تو وہ بیچارے گھبر اجاتے ہیں کہ اب ہم کس طرح ثابت کریں۔اسی طرح وہ ڈائری نویس بھی لازماً گھبر ائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اتنی محنت کر کے سچے سچے واقعات لکھے تھے اب انہوں نے اللہ میاں کے سامنے آکر کہہ دیا کہ صاحب! ہم نے آپ کے سامنے تو جھوٹ نہیں بولنا واقعہ یہ ہے کہ ہم نے کوئی شرک نہیں کیا۔اور ملزم یہ سمجھ لے گا کہ بس میرے اِس حربہ کے ساتھ شکار ہو گیا۔یا تو اللہ تعالیٰ اِس عذر کو قبول کرلے گا اور اگر سزاد یگا تو باقی سارے لوگ یہی کہیں گے کہ اس بے چارے کو یونہی جھوٹی سزا صرف ڈائری نویسوں کے کہنے پر مل گئی ہے ورنہ یہ مجرم کوئی نہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمارے ہاں کیا انتظام ہے۔مجرموں کے خلاف ان کے ہمارے ہاں یہ انتظام ہے کہ حَتَّی اِذَا 99991 مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَبْعُهُمْ وَ کانوں، آنکھوں اور جلد کی شہادت اَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ 7 دنیا میں آج سے پہلے ڈائری نویس کی حفاظت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ڈائری نویس ڈائری لکھتا تھا اور مجرم جا کر کہہ دیتے تھے کہ جھوٹی ہے۔موجودہ زمانہ میں ریکارڈر کی ایجاد اب اس زمانہ میں ہزاروں سال یا جیالوجی (GEOLOGY) والوں کے بیان کے مطابق کروڑوں اربوں سال کے بعد وہ آلہ ایجاد ہوا ہے جس کو ریکارڈر