انوارالعلوم (جلد 25) — Page 495
انوار العلوم جلد 25 495 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات پہلوان ملا جو متکبرانہ طور پر سڑک پر چل رہا تھا۔اس نے اس عام دستور کے مطابق کہ پہلوان اپنا سر منڈا لیتے ہیں تا کہ کشتی میں ان کا مد مقابل ان کے بال نہ پکڑے اپنے بال منڈ ائے ہوئے تھے۔اس بیمار شخص کی حالت بہت کمزور تھی لیکن اس پہلوان کو دیکھ کر اسے شرارت سوجھی اور اس نے آہستہ سے جاکر اس کے سر پر ٹھینگا مارا۔اس پر اُس پہلوان کو غصہ آگیا اور اس نے سمجھا کہ اس شخص نے میری ہتک کی ہے۔چنانچہ اس نے اسے ٹھڈوں سے خوب مارا۔جب وہ اسے ٹھڈے مارہا تھا تو وہ کہتا جاتا تھا کہ تو جتنے ٹھڈے چاہے مارے جتنا مزہ مجھے اس ٹھینگا مارنے میں آیا ہے تجھے ٹھڈوں سے نہیں آسکتا۔اسی طرح جو مزہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دلائل میں آیا ہے وہ عیسائیت کو اپنی طاقت کے زمانہ میں بھی نہیں آیا۔دیکھ لو عیسائی ہم پر حاکم تھے اور ہم کمزور اور ماتحت رعا یا تھے۔ہمارے پاس نہ تلوار تھی اور نہ کوئی مادی طاقت۔لیکن خدا تعالیٰ کا ایک پہلوان آیا اور اس نے ہمیں وہ دلائل دیئے کہ جن سے اب ہم پر امریکہ انگلینڈ اور دوسرے سب ممالک کو شکست دے رہے ہیں۔یہ جو ٹھینگے کا مزہ ہے وہ ان کے ٹھڈوں میں نہیں تو یہ برکت جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دی ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل دی ہے۔اور جوں جوں ہمارے مبلغ کام کریں گے اور احمدیت ترقی کرے گی ہمیں اور زیادہ برکت ملے گی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تیرے ذریعہ اسلام کو دنیا پر غالب کروں گا۔اب جو شخص بھی اسلام کی تبلیغ کے لئے باہر نکلتا ہے اور جو شخص بھی تبلیغ کے لئے ایک پیسہ بھی دیتا ہے در حقیقت اپنے دائرہ میں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے اور جو وعدے خدا تعالیٰ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھے وہ اپنے درجہ اور مقام کے لحاظ سے اس کے ساتھ بھی ہوں گے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو فوت ہو گئے اور قرآن کریم ایک کتاب ہے جو بولتی نہیں۔اب جو مبلغ ہیں وہی بولیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام