انوارالعلوم (جلد 25) — Page 494
انوار العلوم جلد 25 494 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات جاؤں۔لیکن جب میں جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا۔" 12 اب دیکھو قدرت ثانیہ کسی انجمن کا نام نہیں۔قدرتِ ثانیہ خلافت اور نظام کا نام ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں تو کچھ مدت تک تمہارے اندر رہ سکتا ہوں۔مگر یہ قدرتِ ثانیہ دائمی ہو گی اور اس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔اور قیامت تک نہ کوئی نبی رہ سکتا ہے اور نہ کوئی خلیفہ رہ سکتا ہے۔ہاں خلافت قیامت تک رہ سکتی ہے ، نظام قیامت تک رہ سکتا ہے۔پس یہاں قدرتِ ثانیہ سے خلافت ہی مراد ہے کیونکہ خلیفہ تو فوت ہو جاتا ہے لیکن خلافت قیامت تک جاسکتی ہے۔اگر جماعت ایک خلیفہ کے بعد دوسرا خلیفہ مانتی چلی جائے اور قیامت تک مانتی چلی جائے تو ایک عیسائیت کیا ہزاروں عیسائیتیں بھی احمدیوں کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتیں۔کیونکہ ہمارے پاس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دیا ہوا دلائل و براہین کا وہ ذخیرہ ہے جو کسی اور قوم کے پاس نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے سپرد یہ کام کیا ہے کہ آپ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کر دیں۔اب وہ زمانہ جب اسلام تمام دنیا پر غالب ہو گا کسی ایک آدمی کی کوشش سے نہیں آسکتا بلکہ اس کے لئے ایک لمبے زمانہ تک لاکھوں آدمیوں کی جدوجہد کی ضرورت ہے۔پس یہ کام صرف خلافت کے ذریعہ ہی پورا ہو سکتا ہے لیکن اس کا سارا کریڈٹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کو ملے گا جن کے دیئے ہوئے ہتھیار ہم استعمال کرتے ہیں۔باقی باتیں محض خوشہ چینی ہیں جیسے کوئی شخص کسی باغ میں چلا جائے اور اس کے پھل کھالے تو وہ پھلوں کا مزہ تو اٹھا لے گا لیکن اصل مزہ اٹھانا اس کا ہے جس نے وہ باغ لگایا۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی شخص سل کے عارضہ سے بیمار ہو گیا۔اس نے بہتیرا علاج کرایا مگر اسے کوئی فائدہ نہ ہوا۔جب ڈاکٹروں نے اسے لا علاج قرار دے دیا تو وہ اپنے وطن واپس آگیا۔وہ شخص وزیر آباد کے قریب سڑک پر جارہا تھا کہ اُسے ایک