انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 24

انوار العلوم جلد 25 24 سیر روحانی (8) سزائیں دیتا تھا اُن کے احکام درج ہوتے تھے۔اسی طرح جو سزاؤں کی تجویز نچلے افسر کرتے تھے وہ درج ہوتی تھی اور جو انعامات کی سفارشیں نیچے سے آتی تھیں وہ ریکارڈ ہوتی تھیں۔پھر اُن سفارشات کے مطابق بادشاہ کے جو احکام جاری ہوتے تھے کہ مثلاً اس کو ہیں ایکڑ زمین دے دو، اس کو ایک گاؤں دے دو، اس کو دس گاؤں دے دو، یہ سارے احکام اس میں درج ہوتے تھے۔اسی طرح جو ترقیات کے احکام جاتے تھے یا خطابوں کے احکام جاتے تھے کہ اِس کو فلاں خطاب دیا جاتا ہے ، اُس کو فلاں خطاب دیا جاتا ہے وہ ان دفاتر میں لکھے جاتے تھے۔غرض مُجرموں کی ڈائریاں اور مخلصوں کے کارنامے یہ سارے کے سارے وہاں جمع ہوتے تھے اور جب کسی شخص کو سزا دینے کا سوال پید اہو تا تھا تو اس کے پچھلے اعمالنا مے دیکھ لئے جاتے تھے کہ یہ کس سزا کا مستحق ہے۔بعض دفعہ فعل ایک ہی ہوتا ہے لیکن ایک شخص اس کام کا عادی ہوتا ہے اور دوسرے شخص سے اتفاقی طور پر وہ فعل سر زد ہو جاتا ہے۔جس سے اتفاقی حادثہ ہو جاتا ہے اس کو تو تھوڑی سزا دی جاتی ہے اور جو عادی مجرم ہوتا ہے اُس کو اس کے پچھلے جرائم کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سزا دی جاتی ہے۔ر دنیوی حکومتوں میں مجرموں مگر میں نے دیکھا کہ یہ دفاتر جو بادشاہوں نے بنائے تھے ان میں گریز کی بھی بڑی کے لئے گریز کی متعد درا ہیں بڑی راہیں تھیں۔اول تو یہ لوگ چوری چھپے کام کرتے تھے مثلاً ایک شخص قتل کرتا تھا یا چوری کرتا تھا اور ظاہر میں وہ بڑا شریف آدمی نظر آتا تھا۔اب جو ڈائری نویس تھا اُس کو اس کے حالات معلوم ہونے بڑے مشکل تھے پس اختفاء سے کام لینے کی وجہ سے وہ اپنے جرائم پر پردہ ڈال دیتا تھا۔اسی طرح میں نے دیکھا کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ بات تو اُن کی ظاہر ہو گئی لیکن مبالغہ کے ساتھ ظاہر