انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 397

انوار العلوم جلد 25 اُس وقت تک ہماری زمینداری کا کوئی انتظام نہیں تھا۔میں نے اپنے مختار کو بلایا اور کہا ہم قرآن کریم چھپوانا چاہتے ہیں لیکن روپیہ پاس نہیں۔وہ کہنے لگا آپ کو کس قدر روپے کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا کہتے ہیں کہ پہلی جلد تین ہزار روپے میں چھپے گی۔اس نے کہا میں روپیہ لا دیتا ہوں آپ صرف اس قدر اجازت دے دیں کہ میں کچھ زمین مکانوں کے لئے فروخت کر دوں۔میں نے کہا اجازت ہے۔ظہر کی نماز کے بعد میں نے اس سے بات کی اور عصر کی اذان ہوئی تو اس نے ایک پوٹلی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور کہا یہ لیں روپیہ۔میں نے کہا۔ہیں! قادیان والوں کے ہاں اتنا روپیہ ہے۔وہ کہنے لگا اگر آپ تیس ہزار روپیہ بھی چاہیں تو میں آپ کو لا دیتا ہوں۔لوگ مکانات بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس زمین نہیں اگر انہیں زمین دے دی جائے تو روپیہ حاصل کرنا مشکل نہیں۔میں نے کہا خیر اس وقت ہمیں اسی قدر روپیہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ اُس وقت ہم نے قرآن کریم کا پہلا پارہ شائع کر دیا۔پھر میں نے الفضل جاری کیا تو اس وقت بھی میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔حکیم محمد عمر صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں آپ کو کچھ خریدار لا کر دیتا ہوں۔اور تھوڑی دیر میں وہ ایک پوٹلی روپوں کی میرے پاس لے آئے۔غرض ہم نے پیسوں سے کام شروع کیا اور آج ہمار ا لا کھوں کا بجٹ ہے اور ہماری انجمن کی جائیداد کروڑوں کی ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں خود گزشتہ بیس سال کی تحریک جدید میں تین لاکھ ستر ہزار روپیہ چندہ دے چکا ہوں۔اسی طرح ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ میں نے صدرانجمن احمدیہ کو دیا ہے اور اتنی ہی جائیداد اسے دی ہے۔گویا تین لاکھ روپیہ صدرانجمن احمد یہ کو دیا ہے اور تین لاکھ ستر ہزار روپیہ تحریک جدید کو دیا ہے اس لئے جب کوئی شخص اعتراض کرتا ہے کہ میں نے جماعت کا روپیہ کھالیا ہے تو مجھے غصہ نہیں آتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حسابی بات ہے جب انجمن کے رجسٹر سامنے آجائیں گے تو یہ شخص آپ ہی ذلیل ہو جائے گا۔بہر حال اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ سب کو اپنی ذمہ داریوں کی 397 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات