انوارالعلوم (جلد 25) — Page 392
انوار العلوم جلد 25 اس لئے میں تجھے تیری صفت سے پہچانتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے لا يَأْلُونَكُم خَبَالًا کہ تمہارے دشمن وہ ہیں جو قوم میں فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لیے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق میں نے تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا۔میں بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نوجوان ہو اور آئندہ سلسلہ کا بوجھ تم پر پڑنے والا ہے تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ ہر چیز کی بعض علامتیں ہوتی ہیں اسلئے خالی منہ سے ایک لفظ دُہرا دینا کافی نہیں بلکہ ان علامات کو دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہی عجیب نکتہ بیان فرما دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص ساری رات بیوی سے محبت کا اظہار کرتا ہے مگر دن چڑھے تو اس سے لڑنے لگ جاتا ہے۔2۔اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بیان فرمایا ہے کہ اگر میاں کو اپنی بیوی سے واقعی محبت ہے تو وہ دن کے وقت اس سے کیوں محبت نہیں کرتا۔اسی طرح جو شخص کسی جلسہ میں وفاداری کا اعلان کر دیتا ہے اور مخفی طور پر ان لوگوں سے ملتا ہے جو جماعت میں تفرقہ اور فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں تو یہ کوئی وفاداری نہیں۔کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ جو لوگ تمہارے ہم مذہب نہیں ان سے 392 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات کوئی تعلق نہ رکھو غیر مذاہب والوں سے تعلق رکھنا منع نہیں۔حضرت ابن عباس کے متعلق آتا ہے کہ آپ جب بازار سے گزرتے تو یہودیوں کو بھی سلام کرتے۔اس لئے یہاں مِن دُونِکھ کی یہ تشریح کی گئی ہے کہ تم ان لوگوں سے الگ رہو جو لا یا لُونَكُم خَبَالًا کے مصداق ہیں یعنی وہ تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی غیر مذاہب والا تمہارے اندر فتنہ اور فساد پیدا نہیں کرنا چاہتا تو وہ شخص مِّن دُونِکھ میں شامل نہیں۔اگر تم اس سے مل لیتے ہو یا دوستانہ تعلق رکھتے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن ایسا شخص جو تمہاری جماعت میں فتنہ اور فساد پیدا کرنا چاہتا ہے اس سے تعلق رکھنا خد اتعالیٰ نے ممنوع قرار دیا ہے۔پھر آگے فرماتا ہے تم کہہ سکتے ہو کہ اس کی کیا دلیل ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ قَد بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ کچھ باتیں ان کے منہ سے نکل چکی ہیں۔وَمَا تُخْفى